Friday, April 10, 2026
No menu items!
HomeColumnistRAMADAN CHILDREN FASTING TRAINING ISLAMIC PARENTING SPIRITUAL DEVELOPMENT CHARACTER BUILDING MORAL EDUCATION...

RAMADAN CHILDREN FASTING TRAINING ISLAMIC PARENTING SPIRITUAL DEVELOPMENT CHARACTER BUILDING MORAL EDUCATION DISCIPLINE TAQWA FAMILY GUIDANCE FAITH NURTURING YOUTH

رمضان المبارک میں بچوں کی تربیت: روزے کی عملی مشق اور اسلامی رہنمائی


تحریر خصوصی کالم ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ


ماہِ Ramadan

صرف عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ تربیت، تزکیۂ نفس اور کردار سازی کا عملی مدرسہ بھی ہے۔ یہی وہ مقدس ایام ہیں جن میں والدین اپنے بچوں کے دلوں میں عبادت کی محبت،

اطاعتِ الٰہی کا شعور اور صبر و تحمل کی عملی تعلیم بٹھا سکتے ہیں۔

اسلامی نقطۂ نظر سے روزہ اگرچہ بالغ مسلمان پر فرض ہے، تاہم بچوں کو بچپن سے اس کی مشق کرانا سنتِ صحابہؓ سے ثابت ہے۔


احادیث میں آتا ہے کہ عہدِ نبوی ﷺ میں صحابۂ کرامؓ اپنے بچوں کو روزے کی عادت ڈالتے اور ان کا دل بہلانے کے لیے کھلونوں کا انتظام بھی کرتے تھے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ تربیت کا انداز محبت بھرا، حکمت آمیز اور تدریجی ہونا چاہیے، نہ کہ سختی اور جبر پر مبنی۔


قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ تقویٰ دراصل اللہ کی رضا کے لیے نفس کو قابو میں رکھنے کا نام ہے۔

جب بچہ چند گھنٹوں کے لیے بھی اپنی خواہش کو روکتا ہے تو اس کے اندر نظم و ضبط، برداشت اور شکر گزاری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

یہی اسلامی تربیت کی بنیاد ہے۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو روزے کا فلسفہ آسان الفاظ میں سمجھائیں۔

انہیں بتایا جائے کہ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ جھوٹ، غصہ، بدتمیزی اور فضول گفتگو سے بچنے کا نام ہے۔

اگر بچہ آدھا دن بھی روزہ رکھتا ہے تو اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اللہ کے قریب ہو رہا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت میں اعتدال ضروری ہے۔

کمزور یا بیمار بچے کو مکمل روزے پر مجبور کرنا درست نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے دین میں آسانی کو پسند فرمایا۔

لہٰذا اگر بچہ تھکن یا کمزوری محسوس کرے تو اسے آرام دیا جائے اور اس کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے۔


رمضان میں گھر کا ماحول عبادت گزار ہونا چاہیے۔ سحری میں بچوں کو شامل کرنا، افطار پر اجتماعی دعا کروانا،

قرآنِ پاک کی تلاوت سنانا اور صدقہ و خیرات میں بچوں کو شریک کرنا ان کے دل میں دین کی محبت راسخ کرتا ہے۔

جب بچہ دیکھتا ہے کہ اس کے والدین خوش دلی سے عبادت کر رہے ہیں تو وہ بھی فطری طور پر اس راستے پر چل پڑتا ہے۔


آج کے جدید دور میں جہاں ڈیجیٹل مصروفیات نے بچوں کو گھیر رکھا ہے، رمضان تربیتی انقلاب کا بہترین موقع ہے۔

اگر ہم اس مہینے میں اپنے بچوں کو روزے کی عملی مشق، اخلاقی تربیت اور روحانی آگاہی دے دیں تو یہی نسل کل معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔


آخر میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بچوں کو روزہ سکھانا صرف ایک عبادت کی مشق نہیں بلکہ ایک مکمل اسلامی شخصیت کی تعمیر ہے۔ محبت، حکمت اور دعا کے ساتھ کی گئی

تربیت ہی دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔

رمضان ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ آئندہ نسلوں کے دلوں میں تقویٰ کا چراغ روشن کیا جائے تاکہ معاشرہ ایمان، دیانت اور عدل کی روشنی سے منور ہو سکے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments