ریاستیں مفادات سے چلتی ہیں، جذبات سے نہیں
تحریر ڈاکٹر ملک نفیس اکرم بھٹہ
بین الاقوامی سیاست کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ دنیا میں ریاستیں جذبات کے بجائے اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ عالمی تعلقات میں دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتی بلکہ مستقل چیز صرف قومی مفاد ہوتا ہے۔ یہی اصول طاقتور اور کمزور دونوں ریاستوں کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی تاریخ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے۔جب بھی دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرتا ہے تو اکثر مسلم ممالک محتاط یا غیر جانبدارانہ مؤقف اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر ریاست اپنے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی مفادات کو مقدم رکھتی ہے۔
افغانستان کی جانب سے بعض مواقع پر ایسے بیانات سامنے آئے جن میں کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید نہیں کی گئی۔
ایران نے اپنی علاقائی تجارت اور اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے چاہ بہار بندرگاہ کے منصوبے میں بھارت کو شامل کیا۔ خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، بھارت کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات رکھتے ہیں اور اسی تناظر میں انہوں نے کئی سفارتی اقدامات کیے۔
یہ تمام مثالیں دراصل اس اصول کو تقویت دیتی ہیں کہ عالمی سیاست میں ریاستیں جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کرتی ہیں۔اسی لئے اکثر ماہرین کہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی میں اخلاقیات سے زیادہ اہمیت قومی مفادات کو حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو مزید حقیقت پسندانہ بنائے۔ سفارت کاری، معاشی استحکام اور علاقائی تعاون ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ریاست کی عالمی حیثیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر کوئی ملک معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم ہو تو عالمی برادری میں اس کی آواز زیادہ موثر ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی شعور کی ضرورت ہے کہ جذباتی ردعمل کے بجائے قومی مفادات کو مقدم رکھا جائے۔
احتجاج اور غصے کے اظہار میں اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانا دراصل قومی وسائل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ایک باشعور قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے جذبات کو نظم و ضبط اور ذمہ داری کے ساتھ ظاہر کرے۔
آخرکار حقیقت یہی ہے کہ دنیا کی سیاست طاقت، معیشت اور مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ پاکستان کو بھی اسی عالمی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی قومی حکمت عملی کو مضبوط بنانا ہوگا۔ جب ریاستی فیصلے دانشمندی، سفارت کاری اور قومی مفادات کے مطابق کیے جائیں گے تو پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔
NEWS CENTERS PKThe Supreme Command of Truth Journalism.

