تحریر
ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
- مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے نہایت حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں، خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اور ایران و عرب ریاستوں کے درمیان جاری کشیدگی ایسے سوالات کو جنم دے رہی ہیں جو صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی تجزیہ کاروں کے حلقوں میں یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا موجودہ کشیدگی کسی بڑے عالمی تصادم کا پیش خیمہ تو نہیں۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بڑی عالمی جنگیں اچانک شروع نہیں ہوتیںبلکہ ان کے پیچھے برسوں تک جاری رہنے والی سیاسی، معاشی اور عسکری کشیدگیاں ہوتی ہیں۔
پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے پہلے بھی دنیا بڑی طاقتوں کے مختلف اتحادوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔
آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایک بار پھر دنیا مختلف طاقتوں کے بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
ایک طرف امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ
میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔
اسرائیل اس اتحاد کا مرکزی ستون سمجھا جاتا ہے
جبکہ بھارت بھی دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون کے ذریعے اس عالمی صف بندی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری طرف ایران، روس اور چین جیسے ممالک بھی خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ اور اثر و رسوخ کے لیے ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا کردار اس کشمکش کا بنیادی عنصر بن چکا ہے۔ایران ایک طرف مغربی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے
جبکہ دوسری طرف وہ عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسرائیل ایران کے بڑھتے ہوئے عسکری اور جوہری پروگرام کو اپنی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
ادھر عرب ریاستیں بھی ایک نئی حکمت عملی اختیار کرتی نظر آ رہی ہیں۔خلیجی ممالک اب صرف عسکری اتحاد پر انحصار نہیں کر رہے
بلکہ وہ اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم سکیورٹی کے خدشات اور علاقائی طاقتوں کی رقابت انہیں اب بھی عالمی طاقتوں کے قریب رکھتی ہے۔
ان حالات میں افغانستان، پاکستان اور وسطی ایشیا بھی اس بڑی جغرافیائی سیاست سے الگ نہیں رہ سکتے۔ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اسے ہمیشہ بڑی طاقتوں کے مفادات کا مرکز بناتی رہی ہے۔ اسی طرح پاکستان بھی اپنی جغرافیائی اہمیت، ایٹمی صلاحیت اور علاقائی سیاست میں کردار کے باعث اس پورے منظرنامے میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ کیا یہ کشیدگی واقعی تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں عالمی طاقتیں براہ راست جنگ سے حتیٰ الامکان گریز کرنا چاہتی ہیں
کیونکہ جدید جنگ نہ صرف انسانی تباہی بلکہ عالمی معیشت کی مکمل تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
اسی لیے زیادہ تر تنازعات اب براہ راست جنگ کے بجائے پراکسی جنگوں، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کسی ایک بڑی غلطی، غیر متوقع حملے یا علاقائی تصادم نے شدت اختیار کر لی تو حالات تیزی سے قابو سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے ذخائر، اہم سمندری راستے اور عالمی طاقتوں کے مفادات اس خطے کو ایسا میدان بناتے ہیں جہاں کسی بھی بڑی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔
موجودہ حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا ایک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ توازن یا تو سفارت کاری، معاشی تعاون اور علاقائی مفاہمت کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے یا پھر طاقت کی سیاست اور عسکری کشمکش کے ذریعے۔ آنے والے برسوں میں یہی فیصلہ ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ عالمی استحکام کا مرکز بنتا ہے یا ایک ایسے بحران کا نقطۂ آغاز جس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔
NEWS CENTERS PKThe Supreme Command of Truth Journalism.

