Friday, July 10, 2026
No menu items!
HomeColumnistالو طوطا اور مینا ریاست عوام اور انصاف کا سوال

الو طوطا اور مینا ریاست عوام اور انصاف کا سوال


تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
جنگل کی وہ پرانی حکایت آج بھی ہمارے اجتماعی شعور کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔

طوطا، مینا اور الو کا قصہ دراصل کسی پرندے یا جنگل کی کہانی نہیں بلکہ معاشروں، ریاستوں اور حکمرانی کے نظام کا آئینہ ہے۔

جب فیصلے تحقیق کے بجائے مفروضوں پر ہوں

جب الزام ثبوت سے پہلے لگ جائیں

جب انصاف تعصب کے نیچے دب جائے

تو پھر بربادی کے اسباب کہیں اور نہیں بلکہ نظام کے اندر تلاش کرنا پڑتے ہیں۔


پاکستان، آزاد کشمیر اور صوبائی حکومتوں کے سامنے بھی آج یہی بنیادی سوال کھڑا ہے

کہ عوام آخر کس چیز کی تلاش میں ہیں؟ عوام صرف روٹی، کپڑا اور مکان نہیں مانگتے بلکہ وہ عزت، انصاف، شفافیت اور جوابدہی چاہتے ہیں۔

جب شہری سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے ہیں، جب شکایات برسوں فائلوں میں دفن رہتی ہیں

جب طاقتور احتساب سے بچ نکلتے ہیں اور کمزور قانون کی گرفت میں آ جاتا ہے

تو عوام کے ذہن میں بھی وہی سوال جنم لیتا ہے جو الو نے جنگل کے بادشاہ سے متعلق اٹھایا تھا۔


آزاد کشمیر ہو یا پاکستان کے چاروں صوبے، ہر جگہ عوامی مسائل کی نوعیت مختلف ضرور ہے لیکن شکایات کا محور تقریباً ایک ہی ہے۔

کہیں مہنگائی کا طوفان ہے، کہیں بے روزگاری کا عذاب، کہیں بنیادی صحت اور تعلیم کی سہولتیں ناکافی ہیں

کہیں ترقیاتی منصوبوں کے دعووں اور زمینی حقائق میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے

عوام جب سوال کرتے ہیں تو اکثر انہیں یقین دہانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے

لیکن عملی نتائج کا انتظار طویل ہو جاتا ہے۔


ایک انوسٹی گیٹو نقطۂ نظر سے دیکھا جائے

تو اصل مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات، نگرانی اور احتساب کا فقدان بھی ہے۔

دنیا کی کامیاب ریاستیں اسی وقت مضبوط ہوئیں

جب انہوں نے اداروں کو شخصیات پر فوقیت دی

قانون کو طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں بنایا اور عوامی اعتماد کو حکمرانی کی بنیاد بنایا۔


الو کی دانشمندی یہ تھی کہ اس نے غصے کے بجائے حقیقت کو عملی مثال سے واضح کیا۔

آج ہمارے پالیسی سازوں، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

عوامی تنقید کا جواب بیانات سے نہیں بلکہ کارکردگی سے دینا ہوگا۔ اگر عوام کو انصاف بروقت ملے

اگر احتساب بلاامتیاز ہو، اگر وسائل کی تقسیم شفاف ہو اور اگر قانون سب کے لیے برابر ہو تو پھر بداعتمادی کی فضا خود بخود ختم ہو سکتی ہے۔


تاریخ گواہ ہے کہ قومیں دشمنوں سے کم اور اندرونی ناانصافیوں سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔

جب عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو تو بیرونی سازشیں بھی ناکام ہو جاتی ہیں، لیکن جب فاصلے بڑھ جائیں تو افواہیں، تعصبات اور غلط فہمیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔


الو، طوطا اور مینا کی حکایت ہمیں یہی سبق دیتی ہے

کہ بربادی کسی مخصوص فرد گروہ یا طبقے کی وجہ سے نہیں آتی۔ حقیقی زوال اس وقت شروع ہوتا ہے

جب سچائی کی جگہ مفروضے، انصاف کی جگہ جانبداری اور تحقیق کی جگہ الزام لے لیتا ہے۔

ریاستوں کی مضبوطی کا راز طاقت میں نہیں بلکہ انصاف میں پوشیدہ ہوتا ہے


سبقِ سرِراہ
ریاست اور عوام ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں


جس معاشرے میں انصاف کمزور ہو جائے وہاں ترقی کے دعوے کھوکھلے ہو جاتے ہیں


عوامی اعتماد کسی بھی حکومت کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔
تعصب اور بغیر تحقیق فیصلے معاشروں کو تقسیم کرتے ہیں


قانون کی بالادستی ہی قومی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کی اصل ضمانت ہے


PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)

ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے


NEWS CENTERS PK

The Supreme Command of Truth Journalism.

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments