Friday, July 10, 2026
No menu items!
HomeAJKقوموں کی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب شور سے...

قوموں کی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب شور سے زیادہ شعور، جذبات سے زیادہ بصیرت اور تصادم سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہوتی ہے آزاد کشمیر کی آواز

دستکِ فکر کشمیر ، پاکستان اور مکالمے کی آخری امید
تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ


قوموں کی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب شور سے زیادہ شعور، جذبات سے زیادہ بصیرت اور تصادم سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہوتی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ حالات بھی ایک ایسی ہی سنجیدہ دستک دے رہے ہیں جو ہر صاحبِ فکر، ہر ریاستی ادارے اور ہر محب وطن شہری کو رک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔


سوال یہ نہیں کہ سڑکوں پر کون ہے اور اقتدار کے ایوانوں میں کون بیٹھا ہے

اصل سوال یہ ہے کہ اگر کشمیری عوام اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے نظر آئیں تو اس منظر کا تماشہ کون دیکھ رہا ہے اور اس سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟


تاریخ گواہ ہے کہ جب قوموں کے اندر فاصلے پیدا ہوتے ہیں تو دشمنوں کو سرحدیں عبور کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے

لیکن اختلاف کو دشمنی میں اور احتجاج کو تصادم میں بدل دینا کسی بھی معاشرے کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں عقل، آئین اور قانون کی بالادستی سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔


آزاد کشمیر پاکستان کی سلامتی، نظریاتی شناخت اور سفارتی مؤقف کا ایک بنیادی ستون ہے۔

کشمیر کا مسئلہ محض ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے قومی تشخص اور تاریخی موقف کا حصہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں پیدا ہونے والی ہر بے چینی، ہر اضطراب اور ہر سیاسی کشیدگی کو قومی ذمہ داری کے ساتھ سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔


ریاست کی طاقت صرف اختیار میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔

اسی طرح عوام کی طاقت صرف احتجاج میں نہیں بلکہ آئینی جدوجہد اور قومی شعور میں مضمر ہوتی ہے۔

جب ریاست اور عوام ایک دوسرے کو حریف کے بجائے شراکت دار سمجھتے ہیں تو بحران ختم ہونے لگتے ہیں اور ترقی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔


اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ صدرِ پاکستان، وفاقی حکومت، آزاد کشمیر کی منتخب قیادت، ریاستی ادارے، تاجران، وکلاء، طلبہ، سول سوسائٹی اور مقامی ایکشن کمیٹیاں ایک جامع قومی ڈائیلاگ کا آغاز کریں۔

مسائل کا حل طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی، سنجیدہ مذاکرات اور آئینی راستوں سے نکلتا ہے۔


پاکستان کی بقا کسی فرد، جماعت یا ادارے سے نہیں بلکہ آئین، قانون کی حکمرانی، عدل و انصاف اور قومی یکجہتی سے وابستہ ہے۔

آئین ہی وہ اجتماعی معاہدہ ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا پل تعمیر کرتا ہے۔ اگر اس پل کو مضبوط رکھا جائے تو کوئی بحران ناقابلِ حل نہیں رہتا۔


آج کی دنیا میں جنگیں صرف بندوقوں سے نہیں بلکہ بیانیوں، افواہوں، نفرت انگیز پروپیگنڈے اور ذہنی انتشار کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔

ایسے ماحول میں باشعور قومیں ہر خبر کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھتی ہیں

ہر دعوے سے ثبوت طلب کرتی ہیں اور ہر الزام کو قانون کے تابع رکھتی ہیں۔

یہی مہذب معاشروں کا راستہ ہے۔


ایک مومن، ایک محب وطن پاکستانی اور ایک ذمہ دار کشمیری کی ذمہ داری ہے کہ وہ جذبات کے سمندر میں بہنے کے بجائے حقیقت کی روشنی میں فیصلے کرے۔ دشمن ہمیشہ کسی مخصوص چہرے کے ساتھ سامنے نہیں آتا

بعض اوقات وہ غلط فہمیوں، نفرتوں، افواہوں اور تقسیم کرنے والے بیانیوں کے روپ میں معاشرے کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔

جو قوتیں عوام اور ریاست کے درمیان خلیج پیدا کریں، وہ دراصل قومی وحدت کو کمزور کرتی ہیں۔


آزاد کشمیر کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی، قربانیوں اور محبت کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی ریاستی ذمہ داری ہے کہ عوامی شکایات کو سنے، ان کے مسائل کا آئینی حل تلاش کرے اور اعتماد سازی کے ایسے اقدامات کرے جو آنے والی نسلوں کے لیے استحکام کی بنیاد بن سکیں۔


نتیجہ
سرِ راہ کھڑے ہو کر اگر ہم تاریخ کی آواز سنیں تو وہ یہی کہتی ہے کہ قومیں تصادم سے نہیں

اتحاد سے بنتی ہیں۔

ریاستیں جبر سے نہیں

انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور بحران الزام تراشی سے نہیں، مکالمے سے ختم ہوتے ہیں۔


آج آزاد کشمیر اور پاکستان دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

اگر عوام اور ادارے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں

اگر آئین کو رہنما اور مکالمے کو راستہ بنا لیا جائے تو انارکی، انتشار اور بداعتمادی کا ہر قلعہ خود بخود منہدم ہو جائے گا۔


یہی وقت کی دستک ہے

یہی سرِ راہ کا پیغام ہے

اور یہی قومی بقا کا راستہ ہے۔


PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)

ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔


NEWS CENTERS PK

The Supreme Command of Truth Journalism.

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments