تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
ملک بھر میں اٹھنے والی احتجاجی آوازیں محض مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے ٹیکسوں، مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف ردِعمل نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کے خلاف عوامی بے چینی کا اظہار ہیں
جس نے ریاست کو قرض، سود، بیرونی انحصار اور معاشی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔
عوام کا سوال نہایت سادہ مگر انتہائی اہم ہے
کہ اگر بجلی پیدا ہی نہیں ہوئی، عوام نے اسے استعمال ہی نہیں کی تو پھر اس کی قیمت عوام سے کیوں وصول کی جا رہی ہے
ملک بھر میں اٹھنے والی احتجاجی آوازیں محض مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے ٹیکسوں، مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف ردِعمل نہیں
بلکہ ایک ایسے نظام کے خلاف عوامی بے چینی کا اظہار ہیں جس نے ریاست کو قرض، سود، بیرونی انحصار اور معاشی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔
عوام کا سوال نہایت سادہ مگر انتہائی اہم ہے
کہ اگر بجلی پیدا ہی نہیں ہوئی، اگر عوام نے اسے استعمال ہی نہیں کیا، تو پھر اس کی قیمت عوام سے کیوں وصول کی جا رہی ہے۔۔؟
آخر عوام کے خون پسینے کی کمائی سے آئی پی پیز کو وہ ادائیگیاں کیوں کی جائیں
جن کا براہِ راست فائدہ عوام کو حاصل ہی نہیں ہوا۔۔؟
آج ملک کے طول و عرض میں ایک ہی صدا سنائی دے رہی ہے کہ بجلی سستی کی جائے
عوام دشمن معاہدوں پر نظرثانی کی جائے
ریاستی پالیسیوں کا رخ اشرافیہ کے مفادات سے ہٹا کر عوامی فلاح کی طرف موڑا جائے۔
عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں
کہ آخر وہ کون ہوتے ہیں
جو عوام کی مشاورت اور رضامندی کے بغیر ایسے فیصلے کریں
جن کا مالی بوجھ نسلوں تک عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑے؟
یہ سوال صرف بجلی کے بلوں تک محدود نہیں رہا
بلکہ قومی معیشت، حکمرانی، ریاستی ترجیحات اور قومی خودمختاری تک پھیل چکا ہے۔
عوام محسوس کرتے ہیں کہ ریاستی فیصلے عوامی امنگوں کے بجائے ایسے معاشی ڈھانچے کے تابع ہو چکے ہیں جس میں قومی مفاد ثانوی اور قرض دہندگان، عالمی مالیاتی اداروں اور مراعات یافتہ طبقات کا مفاد اولین حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اس بات کا اعلان کر رہے ہیں
کہ غیر منصفانہ معاشی پالیسیوں، مہنگی بجلی، عوام دشمن معاہدوں اور معاشی استحصال کے نظام پر نظرثانی ناگزیر ہو چکی ہے۔
عوام کا مؤقف ہے کہ حکومت کو عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر عمل درآمد کرنے کے بجائے
عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرنی چاہیے۔
ملک کے مختلف طبقات میں یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ پاکستان کو قرض پر چلنے والی معیشت کے بجائے پیداواری، خودانحصار اور عوام دوست معیشت کی بنیاد رکھنی چاہیے۔
عوام یہ بھی سوال کرتے ہیں
کہ آخر کب تک قومی پالیسیاں بیرونی قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کے گرد گھومتی رہیں گی
جبکہ عام آدمی کی زندگی دن بدن دشوار سے دشوار تر ہوتی جا رہی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں سود کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے۔
اسی لئے ایک بڑا طبقہ مطالبہ کر رہا ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو بتدریج سودی نظام سے نکال کر اسلامی مالیاتی اصولوں کی طرف لے جائے۔
ان کے نزدیک حقیقی آزادی صرف سیاسی نعروں سے حاصل نہیں ہوتی
بلکہ معاشی خودمختاری، عدلِ اجتماعی، اقتصادی انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے حاصل ہوتی ہے۔
ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ ریاست کو ایسے معاشی ماڈل کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے
جہاں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچے۔
تاہم تاریخ یہ بھی سکھاتی ہے کہ قومیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ حکمت، تدبر، منصوبہ بندی اور اجتماعی شعور سے ترقی کرتی ہیں۔
بین الاقوامی معاہدوں اور قرضوں کے حوالے سے ریاستوں پر قانونی اور سفارتی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں
اس لئے کسی بھی معاشی فیصلے کو قومی مفاد، آئینی تقاضوں اور زمینی حقائق کی روشنی میں ہی ترتیب دینا ضروری ہے۔
اصل مسئلہ قرض لینے یا نہ لینے کا نہیں
بلکہ ایسی معیشت تعمیر کرنے کا ہے
جو قرضوں پر زندہ رہنے کی محتاج نہ ہو
اور جو اپنے وسائل سے اپنی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اگر حکومت واقعی عوامی امنگوں کی ترجمان بننا چاہتی ہے
تو اسے محض نئے قرضوں کے حصول کے راستے تلاش کرنے کے بجائے
قومی وسائل کے تحفظ، بدعنوانی کے خاتمے، توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات، صنعتی ترقی، زرعی استحکام، برآمدات میں اضافے، عدالتی اصلاحات اور شفاف حکمرانی پر توجہ دینا ہوگی۔
جب تک قومی دولت کا ضیاع، نااہلی، اقربا پروری اور کرپشن جاری رہے گی تب تک قرض بھی بڑھتے رہیں گے اور عوامی مشکلات بھی کم نہیں ہوں گی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک قوم کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
کیا ہم ایک ایسی ریاست بننا چاہتے ہیں
جو ہر بحران میں کشکول اٹھائے دنیا کے دروازوں پر دستک دے
یا ایسی خوددار ریاست جو اپنے وسائل، اپنی محنت، اپنی افرادی قوت اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ترقی کی منزل طے کرے۔۔؟
تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں عزت، وقار اور استحکام حاصل کرتی ہیں جو اپنی کمزوریوں کا ادراک کرکے اصلاح، احتساب اور خودانحصاری کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔
آج عوام کی پکار
صرف بجلی سستی کرنے
چند ٹیکس کم کرنے یا وقتی ریلیف حاصل کرنے کی نہیں
بلکہ ایک ایسے معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کے قیام کی ہے
جس میں انصاف ہو ، شفافیت ہو ،
قومی خودمختاری ہو اور عوامی فلاح اولین ترجیح ہو۔
قوم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ ریاست کا مقصد چند مراعات یافتہ طبقات اور اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ ہے یا عام شہری کی عزت، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کا تحفظ؟
حقیقی کامیابی اس دن ہوگی جب پاکستان اشرافیہ کی فلاحی ریاست کے تصور سے نکل کر ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر ابھرے گا۔۔؟
ایسی ریاست جہاں قانون کی حکمرانی سب پر یکساں نافذ ہو، احتساب امیر و غریب میں فرق کیے بغیر ہو، قومی وسائل عوام کی فلاح پر خرچ ہوں
حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھیں اور ریاست کمزور، محروم اور پسے ہوئے طبقات کی محافظ بنے۔
اسلامی فلاحی ریاست کا تصور محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عدل، مساوات، امانت، دیانت، خدمتِ خلق اور انسانی وقار کے ان سنہری اصولوں کا عملی نفاذ ہے
جنہوں نے ریاستِ مدینہ کو تاریخِ انسانیت کا ایک عظیم نمونہ بنایا۔
آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے
جہاں فیصلے صرف معاشی نہیں بلکہ قومی بقا، خودمختاری اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایک طرف قرض ، سود ، مہنگی توانائی ، اشرافیہ کی اجارہ داری اور معاشی ناہمواری پر مبنی نظام ہے،
جبکہ دوسری طرف عدل ، مساوات ، خودانحصاری ، شفاف حکمرانی اور عوامی فلاح کا وہ راستہ ہے
جس کی بنیاد اسلام ، آئینِ پاکستان اور قائداعظمؒ کے تصورات میں موجود ہے۔
ملک کی حقیقی طاقت عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں، بیرونی امداد یا کاغذی اعداد و شمار میں نہیں بلکہ اس کے عوام، اس کی محنت، اس کے قدرتی وسائل، اس کی نظریاتی بنیاد اور اس کی اجتماعی قوتِ ارادی میں پوشیدہ ہے۔
جب تک ریاستی پالیسیوں کا مرکز اشرافیہ کے مفادات کے بجائے
عوامی فلاح نہیں بنتا
تب تک مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں اور معاشی عدم استحکام کے بادل چھٹنا مشکل رہیں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ قومی قیادت ذاتی، سیاسی اور گروہی مفادات سے بلند ہو کر ریاستِ مدینہ کے ان سنہری اصولوں کی طرف رجوع کرے
جن کی بنیاد عدل ، امانت ، دیانت ، احتساب اور خدمتِ خلق پر قائم تھی۔
یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو معاشی غلامی سے نجات ، سودی بوجھ سے آزادی، سستی توانائی ، مستحکم معیشت اور حقیقی خودمختاری کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان کے حکمران عوام سے دور اور مفادات کے اسیر ہو جائیں
جبکہ عروج ان قوموں کا مقدر بنتا ہے جو انصاف کو طاقت، دیانت کو سیاست اور عوامی خدمت کو حکمرانی کا معیار بنا لیتی ہیں۔
اگر پاکستان نے اس تاریخی لمحے میں درست سمت کا انتخاب کر لیا
تو یہ ملک محض ایک ریاست نہیں
بلکہ عالمِ اسلام کے لئے امید ، استحکام اور فلاح کا ایک روشن مینار بن سکتا ہے۔
قرض سے آزادی، سود سے نجات، سستی بجلی، عوامی خوشحالی اور اسلامی فلاحی ریاست کا قیام دراصل ایک ہی منزل کے مختلفراستے ہیں..؟؟؟
یہی وہ منزل ہے
جس کی طرف پوری قوم کو متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔
“قوموں کی آزادی صرف سرحدوں سے نہیں، بلکہ معاشی خودمختاری، عدلِ اجتماعی اور عوامی فلاح سے پہچانی جاتی ہے۔”
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لئے۔
NEWS CENTERS PK
The Supreme Command of Truth Journalism
