پھر آخر معاشی بحران کا اصل ذمہ دار کون۔۔؟
تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
پاکستان کی معیشت آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر طرف بے چینی، اضطراب اور غیر یقینی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف عوام روزمرہ زندگی کی تقریباً ہر ضرورت پر ٹیکس ادا کر رہی ہے، دوسری طرف صنعت کار مہنگی بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، مختلف اقسام کے ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور لیویز کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ تیسری جانب قومی قرضے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ایک ہی سوال ہر زبان پر ہے جب عوام بھی ٹیکس دے رہی ہے، صنعت بھی ٹیکس ادا کر رہی ہے اور ریاست مسلسل قرضے بھی لے رہی ہے، تو پھر معاشی بحران ختم کیوں نہیں ہو رہا۔۔؟
آج ایک عام پاکستانی جب آٹا، چینی، گھی، ادویات، کپڑے، موبائل فون، بجلی، گیس یا پٹرول خریدتا ہے تو وہ کسی نہ کسی شکل میں قومی خزانے میں حصہ ڈال رہا ہوتا ہے۔
دوسری طرف صنعت کار خام مال کی درآمد سے لے کر مصنوعات کی تیاری اور فروخت تک مختلف ٹیکس اور سرکاری واجبات ادا کرتا ہے۔
اس کے باوجود اگر صنعتیں بند ہو رہی ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید ختم کر رہی ہے اور سرمایہ کار نئے منصوبوں سے گریز کر رہے ہیں
تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ صرف محصولات جمع کرنے کا نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال، معاشی منصوبہ بندی اور ریاستی کارکردگی کا بھی ہے۔
جب بجلی کی قیمتیں خطے کے بیشتر ممالک سے زیادہ ہوں، پٹرولیم مصنوعات پر بھاری محصولات عائد ہوں، پیداواری لاگت مسلسل بڑھتی رہے، شرحِ سود بلند ہو اور معاشی پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں تو صنعت کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ پیداواری لاگت بڑھنے سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں غیر مسابقتی ہو جاتی ہیں، برآمدات متاثر ہوتی ہیں، کارخانے بند ہونے لگتے ہیں اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
دوسری طرف قومی قرضوں میں مسلسل اضافہ بھی ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے۔
قرض لینا بذاتِ خود ہمیشہ غلط نہیں ہوتا
اگر وہ ایسے منصوبوں پر خرچ ہو جو معیشت کو مضبوط کریں، روزگار پیدا کریں، برآمدات بڑھائیں اور مستقبل میں قرض واپس کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
لیکن اگر قرضوں کے باوجود مالی خسارہ برقرار رہے، صنعت کمزور ہو، مہنگائی میں اضافہ ہو اور عوام کو بنیادی ریلیف نہ ملے تو یہ جائز سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی وسائل اور قرضوں کے استعمال کی شفاف جانچ اور مؤثر احتساب کیسے ہو گا۔۔۔؟؟؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس پورے بحران کا ذمہ دار کسی ایک حکومت، ایک ادارے یا ایک شخصیت کو قرار دینا درست تجزیہ نہیں ہوگا۔ یہ صورتحال کئی برسوں سے جمع ہونے والے مالیاتی خساروں، توانائی کے شعبے کے مسائل، قرضوں کے بوجھ، پالیسیوں میں عدم تسلسل، کمزور انتظامی فیصلوں، ٹیکس نظام کی پیچیدگیوں اور عالمی معاشی دباؤ سمیت متعدد عوامل کا مجموعی نتیجہ ہے۔ اسی لئے اس کا حل بھی جامع اور دیرپا اصلاحات میں ہے، نہ کہ صرف الزام تراشی میں۔
سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوئی بھی قوم صرف ٹیکس بڑھا کر یا قرض لے کر خوشحال نہیں بنتی۔
مضبوط معیشت اس وقت وجود میں آتی ہے جب صنعت ترقی کرے
سرمایہ کاری بڑھے، زراعت اور برآمدات مضبوط ہوں
ریاست شفاف انداز میں وسائل استعمال کرے
اور ہر سطح پر قانون کے مطابق جوابدہی یقینی بنائی جائے۔
عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے ادا کئے گئے ٹیکس اور ریاست کے حاصل کردہ قرضے کہاں خرچ ہوئے
ان سے کیا نتائج حاصل ہوئے اور ان کی نگرانی اور احتساب کس طرح کیا جا رہا ہے۔
اگر آج بھی قومی ترجیحات کو درست نہ کیا گیا
صنعت دوست پالیسیاں اختیار نہ کی گئیں، توانائی کی لاگت میں کمی، مالی نظم و ضبط، شفاف احتساب اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی پر توجہ نہ دی گئی تو بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر ریاست، صنعت، پارلیمان، متعلقہ ادارے اور عوام مل کر ایک شفاف، جوابدہ اور پیداواری معاشی نظام کی بنیاد رکھیں
تو یہی مشکلات پاکستان کی معاشی بحالی کا نقطۂ آغاز بھی بن سکتی ہیں۔
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لئے۔
NEWS CENTERS PK — The Supreme Command of Truth Journalism.
