جب کسی ایک مقدمے پر ضلعی پولیس کی اعلیٰ قیادت کو پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے روبرو پیش ہونا پڑے
تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
پنجاب اسمبلی میں جھنگ پولیس کی طلبی نے احتساب پولیس کی جوابدہی اور عوامی اعتماد پر نئے سوالات کھڑے کر ڈئیے
جمہوریت کی بنیاد قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں کی جوابدہی پر استوار ہوتی ہے۔
تو یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں رہتی بلکہ پورے نظامِ احتساب کے لئے ایک اہم امتحان بن جاتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ایک مقدمے میں کارروائی کیوں ہوئی،
بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہی معیار ہر شہری کے لئے بھی موجود ہے؟
احمد پور سیال سے تعلق رکھنے والے اقبال قصائی کے مقدمے نے حالیہ
دنوں غیر معمولی توجہ حاصل کی۔
پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے اجلاس میں ضلع جھنگ کے ڈی پی او، ایس ڈی پی او احمد پور سیال اور ایس ایچ او احمد پور سیال نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران متعلقہ رکن پنجاب اسمبلی نے پولیس کی کارروائی پر اعتراضات اٹھائے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔
ایس ایچ او نے حلفاً رشوت لینے سے انکار کیا جبکہ ایس ڈی پی او نے کہا کہ معاملہ ان کے علم میں نہیں تھا۔
بعد ازاں استحقاق کمیٹی نے محکمانہ کارروائی کی ہدایت جاری کی۔
یہ کارروائی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے بعد کئی ایسے سوالات سامنے آتے ہیں
جن کے جواب صرف متعلقہ ادارے ہی دے سکتے ہیں۔
کیا وہ تمام متاثرین جو برسوں سے مختلف مقدمات میں انصاف کے منتظر ہیں، اسی نوعیت کی توجہ حاصل کر پاتے ہیں؟
اگر کسی بااثر شخصیت کی شکایت پر اسمبلی متحرک ہو سکتی ہے تو عام شہری کی فریاد بھی اسی رفتار سے کیوں نہیں سنی جاتی؟
ریاست کی اصل طاقت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے
جب انصاف شخصیت، حیثیت، سیاسی وابستگی یا اثر و رسوخ کے بجائے صرف قانون کی بنیاد پر فراہم کیا جائے۔
قانونی اصول یہی کہتے ہیں کہ کسی شخص پر الزام لگنا اور اس کا ثابت ہونا دو الگ مراحل ہیں۔
اسی لئے ضروری ہے کہ ہر شکایت کی آزادانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوں تاکہ نہ کسی بے گناہ کی ساکھ متاثر ہو اور نہ کسی متاثرہ شہری کو انصاف سے محروم رہنا پڑے۔
پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کی کارروائی نے یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ پولیس بھی جوابدہی سے بالاتر نہیں۔
اب اسی جذبے کو ہر اس مقدمے تک وسعت دینے کی ضرورت ہے
جہاں متاثرین برسوں سے انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
احتساب اگر صرف چند مقدمات تک محدود رہے تو عوام کے ذہنوں میں امتیازی سلوک کا تاثر پیدا ہوتا ہے
جبکہ قانون کا وقار اسی وقت قائم رہتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو۔
یہ کالم کسی فرد یا ادارے کے خلاف فیصلہ صادر کرنے کے لئے نہیں بلکہ ایک بنیادی قومی سوال اٹھانے کے لئے تحریر کیا گیا ہے
کیا پاکستان میں انصاف کا پیمانہ ہر شہری کے لئے ایک جیسا ہے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو اس کا عملی اظہار بھی ہر مقدمے ہر تھانے اور ہر ادارے میں یکساں نظر آنا چاہیے۔
ریاستوں کی مضبوطی قانون کے یکساں نفاذ سے آتی ہے
شخصیات کے اثر و رسوخ سے نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے
کہ ہر شکایت پر ہر متاثرہ شہری اور ہر سرکاری اہلکار کے ساتھ ایک ہی قانون ایک ہی معیار اور ایک ہی احتساب کا رویہ اختیار کیا جائے۔
یہی عوامی اعتماد کی بحالی اور مضبوط جمہوری نظام کی ضمانت ہے۔
اس کالم میں بیان کئے گئے
بعض دعوے اور الزامات عوامی ذرائع اور مصنف کو موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر زیرِ بحث لائے گئے ہیں۔
ان دعوؤں کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین صرف مجاز تحقیقاتی ادارے اور عدالتیں کر سکتی ہیں۔
متعلقہ پولیس افسران یا دیگر فریقین کا تفصیلی سرکاری مؤقف اس تحریر کی تیاری تک دستیاب نہیں ہو سکا۔
اگر مستقبل میں کوئی متعلقہ فریق اپنا مؤقف جاری کرتا ہے
تو صحافتی اخلاقیات اور حقِ جواب کے اصول کے مطابق اسے بھی اسی اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔
