خصوصی اداریہسی سی این آئی نیوز ڈیسک
مقامِ وقوعہ گجرات
گجرات میں ایک دیہاڑی دار محنت کش کی ٹریفک چالان کے دوران اچانک موت کا واقعہ محض ایک خبر نہیںبلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں، ریاستی ترجیحات اور قانون نافذ کرنے کے انداز پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔
اگرچہ ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق وفات دل کے دورے کے باعث ہوئی
تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا نفاذِ قانون کا طریقہ کار انسان دوست بھی ہے یا نہیں؟
قانون ریاست کی رِٹ قائم کرتا ہے، مگر قانون کی روح انصاف اور انسانیت ہے۔جب ایک شخص چند سو روپے جیب میں لیے، گھر میں منتظر بچوں کی فکر میں مبتلا ہو، اور اچانک دو ہزار روپے کے جرمانے کا سامنا کرے تو یہ محض مالی سزا نہیں رہتی
یہ اس کے اعصاب، وقار اور امید پر بھی ضرب ہوتی ہے۔
لمحۂ فکریہ قانون یا کمیشن؟
سوشل حلقوں میں ایک تاثر یہ بھی گردش کر رہا ہے کہ جرمانوں کا نظام بعض اوقات کارکردگی یا ریونیو ہدف سے جڑا ہوتا ہے۔اگر واقعی ایسا ہے تو یہ اصلاح کا متقاضی ہے۔ قانون کا نفاذ “ٹارگٹ کلچر” نہیں بلکہ “سروس کلچر” کے تحت ہونا چاہیے۔
اصلاحِ معاشرہ چند بنیادی نکات
تربیتِ اخلاق و ہمدردی
پولیس اور ٹریفک وارڈنز کی تربیت میں نفسیاتی آگاہی، انسانی ہمدردی اور تنازعہ کم کرنے کی مہارت کو شامل کیا جائے۔
جرمانوں میں تناسب کا اصول
غریب اور امیر کے لیے یکساں جرمانہ بظاہر مساوات ہےمگر عملی طور پر غیر متناسب اثر رکھتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں آمدنی کے تناسب سے جرمانوں کا نظام رائج ہے اس پہلو پر غور ہونا چاہیے۔
وارننگ اور قسطوں کا نظام
پہلی بار خلاف ورزی پر وارننگ یا جرمانے کی قسطوں کی سہولت معاشرتی توازن قائم رکھ سکتی ہے۔
فلاحی ریاست کی ذمہ داری
اگر کوئی شخص سرکاری کارروائی کے فوراً بعد طبی صدمے سے جاں بحق ہو جائے تو کم از کم انکوائری مکمل ہونے تک متاثرہ خاندان کی ہنگامی کفالت ریاست کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔
ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد
اعتماد صرف قانون سے نہیں بلکہ رویّے سے پیدا ہوتا ہے۔جب اہلکار نرم لہجہ اپناتے ہیں تو قانون کی عزت بڑھتی ہے، خوف نہیں۔
قانون کا مقصد شہری کو مجرم ثابت کرنا نہیں بلکہ محفوظ رکھنا ہے۔
نتیجہ
گجرات کا یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختیار ایک امانت ہے۔وردی طاقت کی علامت ضرور ہے، مگر اس کی اصل عظمت
رحم، برداشت اور عدل میں ہے۔ اگر ہم نے اس سانحے سے سبق نہ سیکھا تو کل کوئی اور طاہر بیگ اسی بے حسی کی نذر ہو سکتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ اصلاحِ نظام، اصلاحِ رویّہ اور اصلاحِ معاشرہ — تینوں پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔
NEWS CENTERS PK — The Supreme Command of Truth Journalism.

