نیویارک انٹرنیشنل نیوز ڈیسک — خصوصی رپورٹ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران غزہ پٹی میں مبینہ طور پر امریکی ساختہ بھاری تباہ کن اور بنکر بسٹر بموں کے استعمال کی رپورٹس نے عالمی سطح پر تشویش اور قانونی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان ہتھیاروں کے استعمال سے گنجان آبادی والے علاقوں میں شدید جانی و مالی نقصان ہوا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے زیرِ زمین سرنگوں اور عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید گائیڈڈ بم استعمال کیے گئے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ شہری آبادی کے قریب ایسے بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے انسانی بحران میں اضافہ ہوا۔ کئی مقامات پر عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوئیں اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دوسری جانب امریکہ نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وہ اپنے اتحادی کی دفاعی معاونت جاری رکھتا ہےمگر شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دیتا ہے۔ امریکی حکام نے بعض واقعات کے بعد ہتھیاروں کی فراہمی کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی بات بھی کی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعدد اداروں نے حملوں کی آزادانہ تحقیقات اور ممکنہ جنگی جرائم کے جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق شہری علاقوں میں بڑے دھماکہ خیز ہتھیاروں کا استعمال عالمی انسانی قوانین کے تناظر میں انتہائی حساس معاملہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے کے امن و استحکام بلکہ عالمی سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی قانون کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، جبکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور جنگی ضوابط پر نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
NEWS CENTERS PAKISTAN
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔
NEWS CENTERS PK — The Supreme Command of Truth Journalism.

