تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہر الیکشن سے پہلے ایک نعرہ ضرور سنائی دیتا ہےکہ اس بار عام آدمی اسمبلی میں پہنچے گا تو ملک بدل جائے گا۔
یہی امید عوام کو ہر پانچ سال بعد ایک نئے خواب کی طرف لے جاتی ہے
مگر اقتدار کی راہداریوں سے واپس آنے والی حقیقت اکثر اس خواب سے مختلف ہوتی ہے۔
معروف صحافی روف کلاسرا نے ایک عوامی تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک بہت مقبول تصور ہے کہ اگر غریب لوگ اسمبلیوں میں پہنچ جائیں تو ملک کی حالت بدل جائے گی۔
اسی سلسلے میں لیاقت بلوچ کا ایک مشاہدہ بھی نقل کیا جاتا ہے کہ 2002 سے 2007 کی اسمبلی میں بعض ارکان سائیکلوں پر آئے اور مدت پوری ہونے پر پراڈو گاڑیوں میں واپس گئے۔
اس مشاہدے کی آزادانہ سرکاری تصدیق موجود نہیں، مگر اس نے ایک ایسا سوال ضرور پیدا کیا جس کا جواب آج بھی قوم تلاش کر رہی ہے۔
آخر اقتدار میں جانے والا بدلتا ہے یا اقتدار کا نظام اسے بدل دیتا ہے؟
یہ سوال کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک دور تک محدود نہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں حکومتیں بدلتی رہیں، نعرے بدلتے رہے، اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے
لیکن عوام کی بنیادی مشکلات مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، انصاف اور بلدیاتی خدمات زیادہ تر برقرار رہیں
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سیاست کو عوامی خدمت کے بجائے اکثر طاقت، وسائل اور اثرورسوخ کے مرکز کے طور پر دیکھا گیا۔
جب انتخابی عمل پر بے تحاشا اخراجات ہوں، سیاسی وفاداریاں مفادات کے مطابق بدلتی ہوں اور عوامی نمائندگی کے بجائے طاقت کے مراکز اہم ہو جائیں تو جمہوریت کا اصل مقصد کمزور پڑ جاتا ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کوئی رکن اسمبلی امیر کیوں ہوا؛بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کی آمدن، اثاثوں اور مفادات میں ہونے والا اضافہ مکمل طور پر قانون کے مطابق، شفاف اور قابلِ جانچ ہے؟
یہی وہ معیار ہے جو ہر جمہوری معاشرے میں اختیار کیا جاتا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں پارلیمان کی نشست کو کاروبار نہیں سمجھا جاتا۔وہاں اثاثوں کے گوشوارے، مفادات کے اندراج، ٹیکس ریکارڈ، عوامی اخراجات اور مفادات کے ٹکراؤ کی نگرانی کے مؤثر نظام موجود ہوتے ہیں۔
یہی نظام جمہوریت کو افراد کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے قانون کے تابع رکھتا ہے۔
پاکستان میں بھی عوام کا اصل مطالبہ یہی ہونا چاہیے
کہ ہر منتخب نمائندے کے اثاثوں، انتخابی اخراجات اور عوامی فنڈز کے استعمال کی آزادانہ، غیر جانبدار اور مسلسل جانچ ہو۔
احتساب صرف مخالفین کا نہیں بلکہ سب کا ہونا چاہیے
کیونکہ یکساں قانون ہی عوامی اعتماد پیدا کرتا ہے۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت بھی اکثر کمزور دکھائی دیتی ہے۔جب پارٹی ٹکٹ میرٹ، کارکردگی اور عوامی خدمت کے بجائے اثرورسوخ یا انتخابی قابلیت کی بنیاد پر تقسیم ہوں
تو اسمبلی میں بھی وہی رویے منتقل ہوتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے
کہ قانون سازی کے بجائے سیاسی کشمکش نمایاں رہتی ہے۔
بدقسمتی سے ووٹر بھی بعض اوقات شخصیت، برادری، دولت یا وقتی وعدوں کو ترجیح دیتا ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ ووٹ کے بعد مسلسل احتساب کا نام بھی ہے۔
اگر عوام اپنے نمائندوں سے پانچ سال بعد صرف یہ پوچھیں کہ آپ نے کتنے قوانین بنائے، کتنی پارلیمانی حاضری دی
کتنے عوامی مسائل حل کئے اور آپ کے اثاثوں میں کیا تبدیلی آئی
تو سیاسی رویے خود بخود بدلنے لگیں گے۔
قومیں نعروں سے نہیں، اداروں سے بنتی ہیں۔ اگر ادارے مضبوط ہوں تو ایک غریب نمائندہ بھی دیانت دار رہ سکتا ہے اور ایک دولت مند نمائندہ بھی قانون کا پابند رہتا ہے۔
لیکن اگر ادارے کمزور ہوں تو شخصیات بدلنے سے نظام نہیں بدلتا۔
یاد رکھیں، اسمبلی کی کرسی عوام کی امانت ہےسرمایہ کاری کا منصوبہ نہیں۔ اقتدار خدمت کا نام ہے، مراعات کا نہیں۔
اگر سیاست کو کاروبار بننے دیا گیا تو خسارہ صرف خزانے کا نہیں ہوگا بلکہ عوام کے اعتماد، نوجوانوں کے مستقبل اور ریاست کی ساکھ کا بھی ہوگا۔
سرِراہ آج صرف سیاست دانوں سے نہیں بلکہ ریاست، اداروں، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور عوام سب سے ایک سوال کرتا ہے:
کیا ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جہاں عوام ہر پانچ سال بعد صرف ووٹ ڈالیں، یا ایسی جمہوریت جہاں عوام ہر دن اپنے نمائندوں سے جواب بھی طلب کریں؟
آج پاکستان کو نئے نعروں سے زیادہ نئے اصولوں کی ضرورت ہے۔
شفاف انتخابی مالیات، مؤثر اثاثہ جاتی نگرانی، آزاد احتساب، مضبوط پارلیمانی روایات، بااختیار بلدیاتی نظام، آزاد میڈیا اور باشعور ووٹر—یہی وہ ستون ہیں
جس پر مضبوط جمہوریت کھڑی ہوتی ہے۔
جب تک قانون افراد سے بڑا نہیں ہوگا، افراد خود کو قانون سے بڑا سمجھتے رہیں گے۔اور جب تک ووٹر اپنے ووٹ کو امانت نہیں سمجھے گا
اقتدار کو بھی امانت سمجھنے والے کم ہی پیدا ہوں گے۔
پاکستان کی بقا کا راستہ کسی ایک مسیحا، ایک جماعت یا ایک نعرے میں نہیں بلکہ ایسے نظام میں ہےجہاں عوام کا اعتماد، قانون کی بالادستی اور احتساب کی یکسانیت ہر سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو۔
