تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
عالمی سیاست میں بعض فیصلے بظاہر اقتصادی دکھائی دیتے ہیں
مگر ان کے پس منظر میں سفارتی حکمتِ عملی، علاقائی مفادات
اور طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے امریکہ کی جانب سے ایران کو محدود مدت کے لیے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے
جس نے عالمی منڈیوں، توانائی کے شعبے اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے ایران سخت اقتصادی پابندیوں کی زد میں رہا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد تہران پر اس کے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے دباؤ برقرار رکھنا تھا۔ تاہم عملی تجربہ یہ بتاتا ہے
کہ پابندیاں کسی معیشت کو ضرور متاثر کرتی ہیں،
لیکن کسی ریاست کے سیاسی مؤقف کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کرتیں۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود مذاکرات اور محدود نرمی کی گنجائش ہمیشہ موجود رہی ہے۔
یہ فیصلہ صرف ایران کے لیے معاشی ریلیف نہیں، بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہے۔
روس۔یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتِ حال، سپلائی چین کے مسائل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب نے دنیا کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ایسے میں ایران کے وسیع تیل ذخائر عالمی منڈی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
اگر ایرانی تیل دوبارہ بڑی مقدار میں عالمی منڈی کا حصہ بنتا ہے
تو خام تیل کی قیمتوں میں استحکام، اور بعض صورتوں میں کمی، کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم اصل سوال یہ ہےکہ آیا یہ اقدام مستقل نوعیت کا ہے یا محض ایک عارضی سفارتی وقفہ؟ تاریخ گواہ ہے
کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات اعتماد کی بجائے شکوک و شبہات کی بنیاد پر استوار رہے ہیں۔
اس لیے ساٹھ روزہ مہلت کو مکمل مفاہمت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہو سکتا ہے،
لیکن اگر اختلافات دوبارہ شدت اختیار کرتے ہیں تو پابندیوں کی واپسی اور کشیدگی میں اضافہ بھی بعید از قیاس نہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرف تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی سے درآمدی بل اور توانائی کے اخراجات میں کمی واقع ہو سکتی ہے
دوسری طرف یہ موقع پاکستان کو اپنی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں میں توازن پیدا کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔
پاکستان کو محض عالمی طاقتوں کی کشمکش کا تماشائی بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے خطے میں امن، تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ سوال بھی اہم ہےکہ دنیا آخر کب تک
پابندیوں، جنگوں اور طاقت کے مظاہروں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی رہے گی؟
کیا بہتر نہیں کہ عالمی برادری تصادم کی بجائے مکالمے کو ترجیح دے۔۔؟
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ پیش رفت کم از کم اس حقیقت کی یاد دہانی ضرور کراتی ہے کہ بند دروازے بالآخر مذاکرات ہی کے ذریعے کھلتے ہیں۔
قوموں کی ترقی کا راز محاذ آرائی میں نہیں، بلکہ تدبر، مکالمے اور باہمی مفادات کے احترام میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ آج کی دنیا میں وہی ریاستیں کامیاب ہوں گی
جو بدلتے ہوئے عالمی حالات کو سمجھ کر بروقت فیصلے کریں گی۔ پاکستان کے لیے بھی یہی لمحۂ فکریہ ہے
کہ وہ داخلی استحکام، معاشی خود کفالت اور آئینی بالادستی کو اپنی قومی حکمتِ عملی کا محور بنائے
کیونکہ مضبوط ریاستیں عالمی تبدیلیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتیں بلکہ انہیں اپنے حق میں استعمال کرنا جانتی ہیں۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ یا پابندیاں نہیں
بلکہ معاشی استحکام، قومی اتحاد اور دانشمندانہ قیادت ہوتی ہے۔ جو قومیں وقت کے اشاروں کو سمجھ لیتی ہیں
وہ مستقبل کی معمار بنتی ہیں
جبکہ حالات کا ادراک نہ کرنے والی قومیں دوسروں کے فیصلوں کی محتاج ہو جاتی ہیں۔
آج بھی پاکستان کے سامنے راستہ واضح ہے
آئین، اتحاد، معیشت اور قومی خودمختاری کی مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھنا۔
ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
کالم نگار — سرِ راہ
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International(CCNI)
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لئے۔
NEWS CENTERS PKThe Supreme Command of Truth Journalism.
