Sunday, April 12, 2026
No menu items!
HomeColumnistموضوع سرِ راہ بارود ، بندرگاہ اور بیداری—سرِ راہ کھڑا پاکستان اپنی...

موضوع سرِ راہ بارود ، بندرگاہ اور بیداری—سرِ راہ کھڑا پاکستان اپنی تقدیر خود لکھے گا یا پھر ایک اور موقع گنوا دے گا؟

تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ


سرِ راہ کھڑا یہ وطن آج ایک عجیب تماشہ دیکھ رہا ہے

چاروں طرف شور ہے

خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں

اور دور کہیں بارود کی بو فضا میں پھیلتی جا رہی ہے۔

مگر اس شور میں ایک خاموش صدا بھی ہے

ایک ایسا اشارہ جو صرف وہی سن سکتے ہیں

جو وقت کی نبض پہچاننے کا ہنر رکھتے ہیں۔


مشرقِ وسطیٰ کی آگ صرف جنگ کی علامت نہیں، یہ مواقع کی وہ بھٹی ہے

جس میں نئی تقدیریں ڈھلتی ہیں۔

دنیا کی شہ رگ آبنائے ہرمز اس وقت غیر یقینی کے بوجھ تلے دب رہی ہے۔

جب راستے غیر محفوظ ہوتے ہیں تو معیشتیں نئے راستے تراشتی ہیں۔

یہی وہ لمحہ ہے

جب ایران اپنی مجبوریوں کے ساتھ ایک نئے دروازے کی تلاش میں ہے—اور یہ دروازہ پاکستان کے ساحلوں پر کھلتا ہے۔


کراچی بندرگاہ اور گوادر پورٹ

آج

محض جغرافیائی نشان نہیں رہے،

بلکہ وہ تقدیر کے دروازے بن سکتے ہیں۔

یہ وہ راستے ہیں جہاں سے صرف مال نہیں، مستقبل گزرتا ہے۔

مگر سوال وہی پرانا ہے

کیا ہم اس مستقبل کو تھامنے کے قابل ہیں؟


ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے مواقع کو اکثر خواب سمجھ کر ٹال دیا۔

ہم نے بارہا سنہری مواقع کو اپنی ہی کمزوریوں، اختلافات اور سستی پالیسیوں کی نذر کیا۔

آج پھر وہی امتحان ہمارے سامنے ہے، مگر اس بار داؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔


سرِ راہ کھڑا پاکستان ایک طرف ایران کی مجبوریوں کو دیکھ رہا ہے

تو دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہے۔

یہ توازن محض سفارتکاری نہیں، بلکہ ایک نازک فن ہے جہاں ایک غلط قدم پورا کھیل بگاڑ سکتا ہے۔


اسی پس منظر میں فیلڈ مارشل سپہ سالار سید عاصم منیر کی حکمت عملی ایک خاموش مگر گہرا پیغام دیتی ہے۔

سرحدی مارکیٹس، امن کے اقدامات، اور رابطوں کی بہتری

یہ سب اس بات کا اشارہ ہیں کہ شاید کہیں نہ کہیں اس آنے والے طوفان کو موقع میں بدلنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

مگر تاریخ صرف تیاری کو نہیں، عمل کو یاد رکھتی ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ اربوں ڈالر کے خواب کاغذوں پر تو خوبصورت لگتے ہیں

مگر زمین پر ان کی تعبیر کے لیے عزم، دیانت اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔

یہ وہ صفات ہیں جو قوموں کو عظیم بناتی ہیں

اور انہی کی کمی قوموں کو سرِ راہ کھڑا چھوڑ دیتی ہے۔


سبق واضح ہے، مگر کڑوا بھی۔


قومیں وہی آگے بڑھتی ہیں جو وقت کے اشارے سمجھ لیتی ہیں۔


اور جو قومیں تذبذب کا شکار رہتی ہیں،

وہ ہمیشہ دوسروں کے فیصلوں کا انتظار کرتی رہ جاتی ہیں۔


آج پاکستان سرِ راہ کھڑا ہے

ایک راستہ اسے معاشی خودمختاری کی طرف لے جا سکتا ہے،

اور دوسرا وہی پرانی محرومیوں کی طرف فیصلہ کسی اور نے نہیں کرنا، یہ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے۔


اگر ہم نے اس لمحے کو پہچان

لیا تو تاریخ ہمیں یاد رکھے گی، اور اگر ہم نے پھر آنکھیں بند کر لیں تو ہم صرف ایک اور کہانی بن جائیں گے

ایک ایسی کہانی جس میں موقع تھا، مگر ہمت نہیں تھی۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments