مومن سادہ لوح انساںاپنے دشمن کو پہچان
یہ محض ایک مصرع نہیں
بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات کا نچوڑ ہے۔
آج کے پُرفتن دور میں جہاں چہرے بدلتے ہیں، لہجے بدلتے ہیں اور نیتیں بھیس بدل کر سامنے آتی ہیں
وہاں سادہ لوحی اگر شعور سے خالی ہو تو کمزوری بن جاتی ہے۔
اسلام سادگی سکھاتا ہے، مگر سادہ لوحی نہیں؛ وہ اخلاص دیتا ہے،
مگر اندھا اعتماد نہیں۔
جنگ بندی کے بعد ایران کی گلیوں میں گونجنے والے “پاکستان زندہ باد” کے نعرے محض جذبات کا اظہار نہیں تھےبلکہ ایک گہرا پیغام تھے
کہ امت کا دل اب بھی زندہ ہے۔
یہ صدا پاکستان تک پہنچ کر ہمیں جھنجھوڑتی ہے
کہ کیا ہم واقعی اپنے دوست اور دشمن میں فرق کر پا رہے ہیں؟
آج کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ دشمن باہر سے کم اور اندر سے زیادہ حملہ آور ہے۔وہ ہمارے درمیان اختلافات کو ہوا دیتا ہے،
ہمیں فرقوں، زبانوں اور مفادات میں تقسیم کرتا ہے اور ہم سادہ لوحی میں اسے اپنا
خیر خواہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے
جہاں شعور، بصیرت اور دینی فہم کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
اسلام کا سنہری اصول امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہمیں صرف نیکی کا حکم دینے تک محدود نہیں رکھتابلکہ برائی کو پہچاننے اور اسے روکنے کی قوت بھی دیتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنے گرد و پیش میں پھیلتی برائی کو پہچاننے کی کوشش کی؟
یا ہم محض تماشائی بن کر حالات کا رُخ دیکھتے رہے؟
ریاستی سطح پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔جب قیادت متحد ہو
ادارے ایک صف میں ہوں
اور وزیرِ اعظم کی ٹیم قومی مفاد کو مقدم رکھ کر فیصلے کرے
جبکہ عسکری قیادت فیلڈ مارشل سطح کی حکمتِ عملی کے ساتھ ملک کا دفاع کرے
تو دشمن کی ہر چال ناکام ہو جاتی ہے۔
مگر جب اندرونی کمزوریاں بڑھ جائیں تو بیرونی دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
ایران کی گلیوں سے اٹھنے والی صدائیں ہمیں ایک سبق دے رہی ہیں
اپنی صفوں کو پہچانو، اپنے دشمن کو پہچانو، اور اپنے مقصد کو پہچانو۔
یہ وقت ہے کہ ہم جذبات سے نکل کر شعور کی طرف آئیںسادہ لوحی سے نکل کر بصیرت اپنائیں، اور اختلافات سے نکل کر اتحاد کو گلے لگائیں۔
کیونکہ مومن وہ نہیں جو ہر بات پر یقین کر لے،
بلکہ مومن وہ ہے جو حق کو
پہچانے
باطل کو سمجھے اور ڈٹ کر اس کا مقابلہ کرے۔
سبق آموز پیغام
سادگی اختیار کرومگر سادہ لوحی نہیں، اتحاد اپناؤ مگر اندھا اعتماد نہیں،
دشمن کو پہچانو ورنہ وہ تمہیں پہچان کر شکست دے دے گا۔
آخری صدا
بیدار ہو جاؤکیونکہ یہ وقت غفلت کا نہیں، پہچان کا ہے۔
جو آج نہ سمجھا
وہ کل پچھتائے گا۔
جو آج جاگ گیا
وہی کل تاریخ بنائے گا۔

