Friday, July 10, 2026
No menu items!
HomeAJKنیا ورلڈ آرڈر ، قومی سلامتی اور آئینِ پاکستان — بقا کا...

نیا ورلڈ آرڈر ، قومی سلامتی اور آئینِ پاکستان — بقا کا راستہ اتحاد میں ہے


جب قومیں آئین سے دور اور مفادات کے قریب ہو جائیں تو تاریخ سخت فیصلے سناتی ہے


تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
دنیا ایک بار پھر تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔

عالمی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندیاں تشکیل پا رہی ہیں، معاشی جنگیں روایتی جنگوں کی جگہ لے رہی ہیں، اور طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ایسے میں پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ نیا ورلڈ آرڈر کون بنائے گا، بلکہ یہ ہے

کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی بقا، استحکام اور قومی وقار کو کس بنیاد پر محفوظ بنائے گا؟


تاریخ کا غیر متزلزل اصول ہے کہ ریاستیں صرف جغرافیے سے قائم نہیں رہتیں

بلکہ آئین، قانون، اداروں اور قومی وحدت سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب قومیں اپنے اجتماعی معاہدے یعنی آئین کو کمزور کر دیتی ہیں تو بیرونی خطرات سے پہلے اندرونی انتشار ان کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔


پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی جغرافیائی حیثیت عطا کی ہے

جو دنیا کے چند اہم ترین خطوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے کو ہمیشہ اہم نگاہ سے دیکھتی رہی ہیں۔

لیکن جغرافیہ صرف موقع فراہم کرتا ہے، کامیابی اس قوم کو ملتی ہے جو اپنے آئین اور قومی اصولوں پر ثابت قدم رہے۔


آئینِ پاکستان محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ریاست، عوام اور اداروں کے درمیان ایک مقدس قومی معاہدہ ہے۔ یہی وہ دستاویز ہے جو اختیارات کی حدود متعین کرتی ہے، شہریوں کے حقوق کی ضمانت دیتی ہے اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن قائم رکھتی ہے۔ جب آئین مضبوط ہوتا ہے

تو ریاست مضبوط ہوتی ہے، اور جب آئین کمزور پڑتا ہے تو قومی وحدت بھی کمزور ہونے لگتی ہے۔


آج دنیا میں جو ممالک عالمی قوت بن رہے ہیں، ان کی کامیابی کا راز صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ مضبوط ادارے، قانون کی حکمرانی، قومی نظم و ضبط اور ریاستی استحکام ہے۔

چین کی ترقی ہو یا دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کا عروج، ہر جگہ ادارہ جاتی تسلسل اور قومی ترجیحات کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔


پاکستان بھی عالمِ اسلام کی پہلی جوہری طاقت، ایک اہم تزویراتی ریاست اور نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے۔

لیکن ان تمام صلاحیتوں کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے

جب ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے

قومی مفاد کے لیے باہم تعاون کریں اور عوام آئین و قانون کی پاسداری کو اپنا قومی فریضہ سمجھیں۔


بدقسمتی سے جب سیاسی اختلافات دشمنی میں بدل جائیں، قومی مفادات گروہی مفادات کی نذر ہو جائیں، اور آئین کی روح کے بجائے طاقت کی سیاست غالب آ جائے تو دشمن کو سازش کی ضرورت نہیں رہتی۔ قومیں اندر سے کمزور ہو کر خود اپنے راستے بند کر لیتی ہیں۔


نئے عالمی نظام میں پاکستان کا کردار صرف اسلحے، جغرافیے یا سفارت کاری سے متعین نہیں ہوگا

بلکہ اس بات سے ہوگا کہ ہم اپنے آئین، جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور قومی اتحاد کو کس حد تک مضبوط کرتے ہیں۔

دنیا انہی ریاستوں کا احترام کرتی ہے جو اپنے داخلی معاملات میں استحکام اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی ہیں۔


آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام ایک مشترکہ قومی بیانیے پر متفق ہوں کہ آئین ہی ریاست کی اصل طاقت ہے، قانون ہی قومی استحکام کی بنیاد ہے اور اتحاد ہی قومی سلامتی کی ضمانت ہے۔


سبق
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقتور کے حق میں نہیں بلکہ منظم قوموں کے حق میں آتا ہے۔

اگر پاکستان کو نئے عالمی نظام میں باوقار مقام حاصل کرنا ہے

تو اسے سب سے پہلے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔


ریاستیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی انتشار سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی بقا، ترقی اور عالمی وقار کا راستہ کسی فرد، جماعت یا ادارے سے نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کی بالادستی اور قومی اتحاد سے ہو کر گزرتا ہے۔


جب قوم آئین کے سائے میں متحد ہو جائے تو کوئی عالمی طوفان اس کی بنیادیں نہیں ہلا سکتا۔


PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔
NEWS CENTERS PK

The Supreme Command of Truth Journalism.

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments