Friday, July 10, 2026
No menu items!
HomeAJKکشمیر پر قومی اتفاق رائے کیوں ضروری، خواجہ سعد رفیق کے خطاب...

کشمیر پر قومی اتفاق رائے کیوں ضروری، خواجہ سعد رفیق کے خطاب نے اہم آئینی وسیاسی سوالات اٹھا ڈئیے


تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
کشمیر پاکستان کی سیاست کا محض ایک انتخابی نعرہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، آئینی فکر اور عوامی جذبات سے جڑا ایک ایسا مسئلہ ہے


جو قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے ریاستی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔

ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے انداز میں کشمیر کی بات کرتی ہے

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسئلہ صرف جلسوں کی حد تک محدود رہ گیا ہے یا اس پر ایک مستقل، مربوط اور قومی حکمتِ عملی بھی موجود ہے؟


گجرات میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 38 جموں 5 کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ “کشمیریوں سے بڑا پاکستانی کوئی نہیں”۔

یہ بیان پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے

کہ کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات اور حقِ خود ارادیت کا احترام ہونا چاہیے۔


انہوں نے زور دیا کہ کشمیریوں کے جائز مطالبات سنے جائیں

انتخابات میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں اور عوام کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے۔

کسی بھی جمہوری معاشرے میں شفاف انتخابی عمل عوامی اعتماد کی بنیاد ہوتا ہے۔

یہی اصول پاکستان کے آئین میں بھی عوامی نمائندگی اور جمہوری نظام کی روح کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔


ان کے خطاب کا وہ حصہ خاص طور پر قابلِ غور ہے

جہاں انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو غدار قرار دینا درست نہیں۔

یہ صرف ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ جمہوری اقدار کی بنیاد ہے۔

اختلاف کو برداشت کرنا اور اس کا جواب دلیل سے دینا مضبوط ریاستوں کی پہچان ہوتا ہے۔

جب ہر مخالف آواز کو دشمنی کے زاویے سے دیکھا جائے تو سیاسی تقسیم مزید گہری ہو جاتی ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ “لاک ڈاؤن مسائل کا حل نہیں”۔

اس بیان کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو ریاست کا بنیادی چیلنج ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ امن و امان، شہری آزادیوں اور آئینی حقوق کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

جمہوری معاشروں میں یہی توازن ریاستی استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔


انہوں نے جنگ اور قومی سلامتی پر بھی ایک اہم نکتہ اٹھایا

کہ جنگیں صرف فوج نہیں بلکہ پوری قوم لڑتی ہے اور ان کے نتائج بھی پوری قوم بھگتتی ہے۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جدید دور میں قومی طاقت صرف عسکری صلاحیت سے نہیں

بلکہ مضبوط معیشت، فعال سفارت کاری، سیاسی استحکام، عوامی اعتماد اور قومی یکجہتی سے بھی تشکیل پاتی ہے۔


پاکستان کا کشمیر سے متعلق مؤقف کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت پر مبنی رہا ہے۔

مختلف حکومتیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو

بین الاقوامی فورمز پر اسی بنیادی مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

اس تسلسل کو برقرار رکھنا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔


خواجہ سعد رفیق نے بھارت کو پاکستان اور کشمیریوں کا بڑا مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس تناظر میں یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ جب اندرونی سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے تو بیرونی محاذ پر قومی مؤقف کو یکسوئی کے ساتھ پیش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی لئے قومی اتفاقِ رائے کو محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ تزویراتی اہمیت بھی حاصل ہے۔


لیکن اس موقع پر ایک سوال تمام سیاسی جماعتوں سے بھی پوچھا جانا چاہیے۔

اگر آزادانہ انتخابات، اظہارِ رائے، سیاسی برداشت اور جمہوری اقدار کی حمایت کی جاتی ہے تو کیا یہی اصول ہمیشہ، ہر جماعت اور ہر سیاسی کارکن کے لئے

یکساں طور پر اختیار کئے جاتے ہیں؟

جمہوریت کی اصل طاقت اسی غیر جانب دارانہ رویے میں پوشیدہ ہے۔


کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر مؤثر سفارت کاری، قومی اتحاد، آئینی بالادستی، مضبوط معیشت اور داخلی استحکام پر توجہ دینا ہوگی۔

عالمی سطح پر وہی ممالک زیادہ مؤثر مؤقف پیش کر پاتے ہیں

جن کے اندر سیاسی ہم آہنگی، ادارہ جاتی استحکام اور قومی یکجہتی موجود ہو۔


سرِ راہ سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان کی سیاسی قیادت کشمیر کو انتخابی سیاست سے بالاتر رکھتے ہوئے

ایک مشترکہ قومی ایجنڈا بنا سکے گی؟ کیا اختلافِ رائے کو غداری کے بجائے

جمہوریت کی طاقت سمجھا جائے گا؟

اور کیا قومی سلامتی، آئین، جمہوری اقدار اور عوامی اعتماد کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ تکمیل سمجھا جائے گا۔؟


تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ انصاف، آئین، برداشت، مضبوط اداروں

دوراندیش قیادت سے آگے بڑھتی ہیں۔ کشمیر کا مقدمہ بھی اسی وقت زیادہ مؤثر ہوگا

جب پاکستان اندرونی طور پر مضبوط، متحد اور جمہوری اصولوں پر قائم ہوگا۔

یہی وہ پیغام ہے جو ہر سیاسی جماعت، ہر ریاستی ادارے اور ہر باشعور شہری کے لئے یکساں اہم ہے۔


یہ کالم کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کے بجائے خواجہ سعد رفیق کے بیان کے مضمرات، آئینی اصولوں اور قومی پالیسی کے تناظر میں تجزیہ پیش کرتا ہے

تاکہ قاری مختلف پہلوؤں پر غور کر سکے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments