Friday, July 10, 2026
No menu items!
HomeColumnistملکی سلامتی، آئینی جدوجہد، قومی اتحاد اور آزاد کشمیر — ریاستی استحکام...

ملکی سلامتی، آئینی جدوجہد، قومی اتحاد اور آزاد کشمیر — ریاستی استحکام کا حقیقی راستہ

ریاستوں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے

ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ

کالم نگار سر راہ

کہ قوموں کی طاقت صرف ان کے ہتھیاروں، دفاعی سازوسامان یا عسکری قوت میں نہیں

بلکہ ان کے آئین، قومی اتحاد، عوامی اعتماد، مضبوط اداروں، انصاف، شفاف حکمرانی اور معاشی استحکام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

جب یہ ستون مضبوط ہوں

تو بیرونی خطرات بھی کمزور پڑ جاتے ہیں

لیکن جب اندرونی اختلافات شدت اختیار کریں،

سیاسی کشیدگی بڑھ جائے، معاشی مشکلات عوامی بے چینی کو جنم دیں

آئینی اداروں پر اعتماد متزلزل ہو اور دہشت گرد عناصر دوبارہ سر اٹھانے لگیں تو ریاست کو درپیش خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے

جہاں قومی سلامتی کا تصور صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہا

بلکہ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، قانون کی یکساں عملداری، معاشی خودمختاری، سماجی انصاف، مؤثر حکمرانی، ذمہ دار صحافت اور قومی یگانگت کو بھی سلامتی کے بنیادی ستون تسلیم کیا جا رہا ہے۔

قومی سلامتی کا مضبوط ڈھانچہ صرف دفاعی طاقت سے نہیں بلکہ ایک مضبوط معاشرے، بااعتماد شہریوں اور فعال ریاستی اداروں سے تشکیل پاتا ہے۔

گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے دوبارہ ابھرنے

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی چیلنجز، حساس تنصیبات پر حملوں، سرحدی کشیدگی اور غیر روایتی خطرات نے یہ واضح کر دیا ہے

کہ دشمن کی حکمتِ عملی صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہی۔

معلوماتی جنگ، سائبر حملے، معاشی دباؤ، جھوٹی خبروں کی یلغار اور داخلی تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں بھی جدید جنگ کا حصہ بن چکی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی کے ماہرین مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں

کہ داخلی اتحاد، آئینی استحکام اور قومی بیانیے کی مضبوطی ہی بیرونی سازشوں کے خلاف سب سے مؤثر دفاع ہے۔

اسی تناظر میں آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔

یہ خطہ نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے حساس ہے بلکہ پاکستان کے قومی مؤقف، علاقائی امن اور سفارتی حکمت عملی کا بھی اہم حصہ ہے۔

حالیہ سیاسی کشیدگی، عوامی احتجاج اور انتظامی اختلافات نے یہ واضح کیا ہے

کہ حساس علاقوں میں مسائل کا حل صرف آئین، قانون، مکالمے اور عوامی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ریاستی استحکام کا تقاضا ہے کہ تمام وفاقی اکائیوں اور آزاد کشمیر کے عوام کے جائز آئینی حقوق، سیاسی نمائندگی اور ترقیاتی ضروریات کو یکساں اہمیت دی جائے

تاکہ داخلی ہم آہنگی مضبوط ہو اور کسی بھی بیرونی قوت کو انتشار سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔

تحقیقی اور دفاعی مطالعات اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ ریاستیں زیادہ مستحکم رہتی ہیں

جہاں قانون کی حکمرانی مضبوط ہو

عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد قائم ہو، احتساب شفاف ہو، معیشت مستحکم ہو، نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع حاصل ہوں

اور اختلافات کو آئینی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔

اس کے برعکس جب نفرت، عدم برداشت، جھوٹی اطلاعات اور سیاسی محاذ آرائی معاشرے پر غالب آ جائیں

تو قومی وحدت متاثر ہوتی ہے اور دشمن عناصر کو کمزوریاں تلاش کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

ذمہ دار صحافت بھی قومی سلامتی کا ایک اہم ستون ہے۔

صحافت کا فرض ریاستی اداروں یا عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنا نہیں

بلکہ حقائق کی روشنی میں آگاہی فراہم کرنا

عوامی مفاد کو مقدم رکھنا

تحقیق شدہ معلومات سامنے لانا اور قانون و آئین کی بالادستی کو فروغ دینا ہے۔

ایک باشعور قوم ہی افواہوں، نفرت انگیز مہمات اور بیرونی پروپیگنڈے کا مؤثر مقابلہ کر سکتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے

کہ قومی بحرانوں کا حل تصادم میں نہیں

بلکہ اتحاد، برداشت، آئینی جدوجہد، انصاف، شفاف احتساب، معاشی اصلاحات اور

قومی یکجہتی میں پوشیدہ ہے

جب ریاست، ادارے، سیاسی قیادت، میڈیا، عدلیہ، سول سوسائٹی اور عوام ایک مشترکہ قومی مقصد کے تحت آگے بڑھتے ہیں تو بڑے سے بڑا بحران بھی قومی قوت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

آج وقت کا تقاضا یہی ہے

کہ ذاتی، جماعتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔

آئین کو سب سے بالاتر تسلیم کیا جائے، اختلافِ رائے کو جمہوری حق سمجھا جائے، قانون کی حکمرانی کو غیر متزلزل بنایا جائے

قومی اتحاد کو مضبوط کیا جائے اور آزاد جموں و کشمیر سمیت ملک کے ہر خطے میں امن، انصاف، ترقی اور عوامی اعتماد کو فروغ دیا جائے۔

یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم، پرامن اور باوقار ریاست کے طور پر مستقبل کی جانب لے جا سکتا ہے۔

PRIME NEWS AGENCY


CITY CRIME NEWS INTERNATIONAL (CCNI)

UNDER THE SUPREME COMMAND

NEWS CENTERS PK

“ہر خبر تحقیق کے ساتھ، ہر تجزیہ ذمہ داری کے ساتھ، ہر آواز قومی مفاد کے ساتھ۔”

Our Mission:
Delivering verified, investigative, analytical and public-interest journalism with integrity, accuracy and professional excellence.

Our Vision:
To strengthen truth, justice, constitutional values, national unity and responsible journalism through credible reporting and evidence-based analysis.

Our Motto:
Truth • Justice • Investigation • Public Interest

ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
Saving Mankind • Assuring Justice

NEWS CENTERS PK

The Supreme Command of Truth Journalism

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments