تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
کشمیر صرف ایک سرحدی تنازع نہیں
بلکہ جنوبی ایشیا کے دفاع توازن، جغرافیائی سیاست، آبی وسائل، معاشی امکانات اور انسانی مستقبل سے جڑا ہوا
ایک ایسا حساس معاملہ ہے جس کے اثرات پاکستان، بھارت اور پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے حوالے سے سامنے آنے والا ہر سیاسی، سفارتی یا عوامی بیان محض داخلی سیاست نہیں
بلکہ علاقائی سلامتی اور عالمی سفارت کاری کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔
اسی پس منظر میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کشمیر کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کے عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔” یہ بیان کشمیری عوام سے اخلاقی و سیاسی یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
تاہم اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا موجودہ حالات میں ثالثی، سفارت کاری اور بامعنی مذاکرات جنوبی ایشیا کو ایک نئے امن کی طرف لے جا سکتے ہیں؟
دفاعی اعتبار سے کشمیر پاکستان، بھارت اور چین کے سنگم پر واقع ایک انتہائی حساس خطہ ہے۔ بلند پہاڑی سلسلے، اہم درّے اور اسٹریٹجک محلِ وقوع اسے عسکری منصوبہ بندی میں غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔
اسی لئے اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف سرحدی سلامتی بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن، تجارت اور سرمایہ کاری کو بھی متاثر کرتی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے کشمیر دریائے سندھ کے نظام اور دیگر اہم آبی وسائل کے بالائی علاقوں سے جڑا ہوا ہے۔
پانی، زراعت، توانائی اور ماحولیاتی تحفظ مستقبل میں علاقائی استحکام کے بنیادی عوامل ہیں۔
اس حقیقت کے پیشِ نظر کشمیر کا معاملہ صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے معاشی اور انسانی مستقبل کا بھی سوال ہے۔
معاشرتی سطح پر اس طویل تنازع نے سب سے زیادہ عام شہریوں اور نوجوان نسل کو متاثر کیا ہے۔
تعلیم، صحت، روزگار، نفسیاتی آسودگی اور معاشی ترقی جیسے شعبے مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔
اس لئے ہر وہ کوشش جو کشیدگی کم کرے، مکالمے کو فروغ دے اور عوامی فلاح کو ترجیح دے، خطے کے وسیع تر مفاد میں سمجھی جا سکتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے اصول یہ واضح کرتے ہیں
کہ کسی بھی ثالثی یا مذاکراتی عمل کی کامیابی اسی وقت ممکن ہوتی ہے
جب تمام متعلقہ فریق رضامندی، اعتماد سازی اور سفارتی ذرائع کو سنجیدگی سے اختیار کریں۔
تاریخ بھی یہی بتاتی ہے
کہ دیرپا امن طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، مسلسل سفارت کاری اور عوامی اعتماد سے حاصل ہوتا ہے۔
اس لئے کشمیر کے بارے میں ہونے والی ہر سنجیدہ بحث کا محور صرف سیاسی مؤقف نہیں ہونا چاہیے
بلکہ دفاعی استحکام، جغرافیائی حقائق، انسانی حقوق، معاشی ترقی اور خطے کے پائیدار امن کو بھی ہونا چاہیے۔
مضبوط ریاستیں صرف عسکری طاقت سے نہیں
بلکہ انصاف، معاشی استحکام، مؤثر سفارت کاری اور قومی یکجہتی سے بھی مضبوط بنتی ہیں۔
سرِ راہ سوال یہی ہے
کیا جنوبی ایشیا کی قیادتیں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ایسے بامعنی مکالمے کی طرف بڑھیں گی
جو کشیدگی میں کمی، انسانی جانوں کے تحفظ اور پورے خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے؟
اگر ایسا ممکن ہوا
تو یہ نہ صرف کشمیر بلکہ جنوبی ایشیا کے کروڑوں عوام کے مستقبل کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
