تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
سرِ راہ
شکایات کے انبار، تحقیقات کا انتظار
چوری کا بوجھ عوام پر، اصل ذمہ دار کون؟
آخر وسیم ایم آئی، ایس ڈی او عبدالتواب اور بعض میٹر ریڈرز اتنے بااثر کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
معاشرے کی تباہی ہمیشہ کسی بڑے حادثے سے نہیں ہوتی، بعض اوقات چند افراد کی بدعنوانیاختیارات کے غلط استعمال اور احتساب کے فقدان سے پورا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔
جب عوام اپنے جائز حقوق کے لیے دفاتر کے چکر لگاتے رہیں، جب شکایات فائلوں میں دفن ہو جائیں
اور جب سوال پوچھنے والوں کو ہی خاموش کرانے کی کوشش کی جائے
تو پھر ریاستی اداروں کی ساکھ پر سوالات اٹھنا فطری امر بن جاتا ہے۔
رانا ٹاؤن سب ڈویژن سے متعلق سامنے آنے والی شکایات نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔درخواست گزار عتیق الرحمن کا مؤقف ہے کہ بجلی چوری، اوور بلنگ
رشوت ستانی اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے معاملات محض اتفاقی واقعات نہیں
بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہیں جس میں عام صارف خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔
الزام عائد کیا گیا ہے کہ بجلی چوری کی نشاندہی کے باوجودمؤثر کارروائی نہیں کی گئی جبکہ بعض بااثر عناصر کو تحفظ فراہم کیا جاتا رہا۔
مزید یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ میٹر ریڈنگ اور بلنگ میں بڑے پیمانے پر تضادات موجود ہیں
اور بعض صارفین کو ہزاروں یونٹس کے اضافی بلوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ عوام کے اعتماد پر حملہ ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کا صارف ہر ماہ اپنا بل ادا کرتا ہے،مگر اس کے باوجود وہ اوور بلنگ، غلط ریڈنگ اور غیر ضروری جرمانوں کا شکار بنتا ہے۔
دوسری طرف اگر واقعی بجلی چوری کے واقعات موجود ہیں تو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب عوام مانگ رہے ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا ہےکہ وسیم ایم آئی، ایس ڈی او عبدالتواب اور بعض میٹر ریڈرز کے خلاف موجود الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر ایک آزاد اور غیر جانبدار انکوائری کمیشن قائم کیا جائے
تو وہ اوور بلنگ، ناجائز بل وصولی، ریڈنگ میں مبینہ ردوبدل اور دیگر بے ضابطگیوں کے شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہاں اصل سوال کسی ایک فرد یا ایک دفتر کا نہیں بلکہ پورے احتسابی نظام کا ہے۔اگر شکایات موجود ہیں تو ان کی تحقیقات کیوں نہیں ہوتیں؟ اگر تحقیقات ہوتی ہیں
تو ان کے نتائج عوام کے سامنے کیوں نہیں آتے؟
اور اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو متعلقہ افسران کو مکمل طور پر کلیئر کیوں نہیں کیا جاتا؟
سرِ راہ آج یہی سوال پوری شدت کے ساتھ موجود ہے
آخر وسیم ایم آئی، ایس ڈی او عبدالتواب اور بعض میٹر ریڈرز رانا ٹاؤن سب ڈویژن میں اتنے بااثر کیوں دکھائی دیتے ہیں،اور ان کے خلاف اٹھنے والی آوازیں مؤثر تحقیقات تک کیوں نہیں پہنچ پاتیں؟
یہ سوال صرف ایک درخواست گزار کا نہیں بلکہ ہر اس صارف کا ہےجو قانون کی حکمرانی، شفافیت اور انصاف پر یقین رکھتا ہے۔ وقت آ گیا ہے
کہ متعلقہ ادارے خاموشی توڑیں، حقائق سامنے لائیں اور عوام کو بتائیں کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں یا نہیں
کیونکہ جب سوالات بڑھتے جائیں اور جواب نہ ملیں تو شکوک پیدا ہوتے ہیںاور جب شکوک بڑھ جائیں تو اداروں پر اعتماد متزلزل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب احتساب، شفافیت اور فوری کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
عوام تحقیقات چاہتے ہیں، انتقام نہیں۔عوام انصاف چاہتے ہیں، تماشہ نہیں۔ عوام حقائق چاہتے ہیں، خاموشی نہیں۔
نوٹ: اس تحریر میں بیان کردہ تمام الزامات درخواست گزار کے مؤقف اور عوامی شکایات پر مبنی ہیں۔ان کی حتمی تصدیق صرف مجاز تحقیقاتی اداروں یا انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹ
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔
NEWS CENTERS PKThe Supreme Command of Truth Journalism.
شکایات کے انبار تحقیقات کا انتظارچوری کا بوجھ عوام پر، اصل ذمہ دار کون؟ آخر ایم آئی وسیم ایس ڈی او عبدالتواب اور بعض میٹر ریڈرز اتنےبااثر کیوں
RELATED ARTICLES
