طاقت کی عالمی سیاست اور پاکستان بدلتے عالمی منظرنامے میں بقا کی حکمتِ عملی
تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
بین الاقوامی سیاست کی دنیا میں ایک حقیقت ہمیشہ غالب رہی ہے کہ دنیا میں وہی قومیں محفوظ اور باوقار رہتی ہیں جو طاقت، حکمت اور توازن کے ساتھ اپنی قومی حکمتِ عملی ترتیب دیتی ہیں۔ بلند و بالا عمارتیں، شاندار شہر اور اربوں ڈالر کے ترقیاتی منصوبے یقیناً کسی ملک کی معاشی کامیابی کی علامت ہو سکتے ہیں،
مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ دفاعی تیاری، سیاسی بصیرت اور قومی استحکام کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
آج عالمی نظام ایک نئے جیوپولیٹیکل مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ تیز ہو رہا ہے، توانائی کے راستوں پر کشمکش بڑھ رہی ہے اور خطوں کی اسٹریٹیجک اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور یہی تبدیلیاں عالمی سیاست کے مستقبل کا تعین کریں گی۔
عالمی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق اتحاد بناتی اور توڑتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ مستقل مفادات ہوتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں مشرقِ وسطیٰ، بحیرۂ احمر، خلیج فارس اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
توانائی کی سیاست، سمندری راستوں پر کنٹرول اور اسٹریٹیجک بندرگاہوں کی اہمیت نے دنیا کو ایک نئے طاقت کے کھیل میں داخل کر دیا ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک حیثیت غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا کی ایک اہم ایٹمی طاقت ہے بلکہ یہ وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ عرب کے درمیان ایک اسٹریٹیجک پل کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔
پاکستان نے اپنی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں بھی دفاعی طاقت کو مضبوط بنانے کی کوشش جاری رکھی۔
ایٹمی صلاحیت کا حصول، میزائل پروگرام کی ترقی اور دفاعی ٹیکنالوجی میں پیش رفت اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان نے اپنی سلامتی کو اولین ترجیح دی۔
شاہین، غوری، نصر اور ابدالی جیسے میزائل سسٹم اور JF-17 تھنڈر جیسے جنگی طیارے اسی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد کسی بھی جارحیت کو روکنا ہے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو تنازعات جنم لیتے ہیں اور یہی تنازعات عالمی سطح پر بڑے بحرانوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات بھی دفاعی تیاری کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
“وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ”
یعنی دشمنوں کے مقابلے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق قوت تیار رکھو۔
نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
“أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ”
یعنی سن لو! قوت سے مراد دور سے مار کرنے کی صلاحیت ہے۔یہ تعلیم دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قوموں کو ہر دور میں جدید ترین دفاعی وسائل سے لیس رہنا چاہیے۔
تاہم ایک مضبوط ریاست صرف عسکری قوت سے نہیں بنتی۔ اس کے لیے معاشی استحکام، تعلیمی ترقی، سائنسی تحقیق اور سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہیں۔ اگر دفاع مضبوط ہو مگر معیشت کمزور ہو تو ریاست کو طویل مدت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دفاعی طاقت کے ساتھ ساتھ معاشی اور علمی ترقی کو بھی اپنی قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنائے۔
بدلتے عالمی حالات ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ قوموں کی بقا صرف ظاہری ترقی میں نہیں بلکہ اس حکمت عملی میں پوشیدہ ہے
جو انہیں ہر قسم کے بحران سے نمٹنے کے قابل بنائے۔ پاکستان کے لیے اصل راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی اسٹریٹیجک اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایک متوازن اور دانشمندانہ پالیسی اختیار کرے۔
کیونکہ عالمی سیاست کے اس پیچیدہ کھیل میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو طاقت، بصیرت اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔NEWS CENTERS Pk
The Supreme Command of Truth Journalism.

