پٹرول مہنگائی کا بحران: ریاستی محصولات یا عوامی استحصال؟
تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
زاویۂ نظر کالم نگار
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ایک بار پھر قومی مباحثے کا مرکزی موضوع بن چکا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ قیمتیں کیوں بڑھیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس اضافے کا بوجھ کس پر ڈالا جا رہا ہے۔
کیا ریاستی مالی ضروریات کے نام پر عام آدمی کو مسلسل قربانی کا بکرا بنایا جاتا رہے گا؟
عالمی منڈی میں خام تیل کیقیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے،
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ریاست اپنے عوام کو ریلیف دینے کیلئے ٹیکس پالیسی میں لچک پیدا کرتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات حکومتی محصولات حاصل کرنے کا سب سے آسان ذریعہ بن چکی ہیں۔ جب بھی مالیاتی خسارہ بڑھتا ہے، سب سے پہلے پٹرول مہنگا کیا جاتا ہے، گویا عوام کی جیبیں قومی خزانے کی سب سے محفوظ تجوری سمجھ لی گئی ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پٹرول کی قیمت محض عالمی خام تیل کی قیمت کا عکس نہیں ہوتی۔اس میں ریفائنری اخراجات، درآمدی بل، روپے کی بے قدری، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع، ڈیلر کمیشن اور سب سے بڑھ کر حکومتی ٹیکسز شامل ہوتے ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق پٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات کی شرح اس سطح تک پہنچ چکی ہے
کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں کم بھی ہوں تو عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل پاتا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم سیکٹر سے حاصل ہونے والی آمدن ترقیاتی منصوبوں، دفاعی اخراجات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے ناگزیر ہے۔یہ دلیل اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا مالیاتی بوجھ کی منصفانہ تقسیم بھی ریاست کی ذمہ داری نہیں؟
کیا ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے ایندھن پر انحصار کرنا معاشی کمزوری کی علامت نہیں؟
پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف ٹرانسپورٹ کے کرایوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے جھٹکے پورے معاشی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں۔
زرعی پیداوار مہنگی ہوتی ہے، صنعتوں کی لاگت بڑھتی ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہونے لگتی ہیں۔
یوں مہنگائی ایک ایسے طوفان کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان کم آمدنی والے طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
عالمی توانائی منڈی میں قیمتوں کے تعین میں اوپیک کی پالیسیوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔کئی ترقی یافتہ ممالک نے اس دباؤ کا مقابلہ متبادل توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور مؤثر ٹیکس اصلاحات کے ذریعے کیا ہے۔
مگر ہمارے ہاں توانائی کے متبادل ذرائع پر سنجیدہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث عوام مسلسل درآمدی ایندھن کی قیمتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پٹرولیم محصولات کے نظام کو شفاف بنایا جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ اس مد میں حاصل ہونے والے کھربوں روپے کہاں خرچ ہوتے ہیں۔
کم آمدنی والے طبقات کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ نظام اور توانائی کے متبادل منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ریاست اگر واقعی عوامی فلاح کو مقدم سمجھتی ہے تو اسے محصولات اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔بصورت دیگر پٹرول کی قیمتوں میں ہر نیا اضافہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی خلیج کو مزید گہرا کرتا جائے گا۔
معاشی انصاف کا تقاضا ہے کہ ریاستی پالیسیوں کا مرکز عوامی ریلیف ہو، نہ کہ محض محصولات کا حصول۔ ورنہ مہنگائی کا یہ الاؤ معاشرتی بے چینی کو مزید ہوا دیتا رہے گا۔
✍️ ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
زاویۂ نظر کالم نگار

