ماہِ صیام رحمتوں، برکتوں اور ہمدردی کا پیغام لے کر آتا ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہ مقدس مہینہ اکثر عوامی مشکلات کی نئی داستان رقم کرتا نظر آتا ہے۔ایک طرف عبادات، خیرات اور صبر و تحمل کا درس دیا جاتا ہے تو دوسری جانب مہنگائی کا طوفان عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔
اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے شدید اذیت کا باعث بنتا ہے۔ سحری و افطاری جیسی بنیادی ضروریات کا انتظام بھی بہت سے خاندانوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ عوام یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ جس مہینے میں ریلیف ملنا چاہیے، اسی مہینے میں معاشی بوجھ کیوں بڑھ جاتا ہے؟
اسی دوران پیٹرول بحران نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا۔پیٹرول پمپس کی بندش سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔
دفاتر، کاروبار، ٹرانسپورٹ اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد شدید متاثر ہوئے۔
شہری لمبی قطاروں میں کھڑے خوار ہوتے رہے جبکہ سفری اخراجات کئی گنا بڑھ گئے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھا۔
یہ اضافہ ایسے وقت کیا گیا جب پہلے ہی مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید ختم کر چکی تھی۔
ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوئیں اور یوں مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا دکھائی دیا۔
عوامی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ انتظامی مجبوری سے زیادہ پالیسی ناکامی اور مفاداتی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایندھن کے وافر ذخائر موجود تھے
تو اچانک قیمتیں بڑھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس قسم کے فیصلے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔
ماہِ صیام کا اصل پیغام مساوات، ہمدردی اور خدمتِ خلق ہے۔
یہ مہینہ صاحبِ اختیار طبقات کو احساس دلاتا ہے کہ وہ نادار طبقے کی مشکلات کم کریں۔
مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتی ایوانوں میں سہولیات کی فراوانی میسر ہے
جبکہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ پورے اقتصادی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔
صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، اشیائے خوردونوش مہنگی ہوتی ہیں اور مہنگائی کا بوجھ براہِ راست عام شہری پر منتقل ہو جاتا ہے۔
یوں غربت، بے روزگاری اور معاشی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقتی مالی فائدے کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دے۔شفاف پالیسی سازی، مؤثر نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور قیمتوں کے تعین کا واضح نظام ہی عوامی اعتماد بحال کر سکتا ہے۔
بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکسوں میں عارضی ریلیف دیا جائے،اسٹریٹجک ذخائر قائم کیے جائیں
متبادل توانائی منصوبوں کو فروغ دیا جائے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
یہی اقدامات مستقبل میں ایسے معاشی جھٹکوں سے بچاؤ فراہم کر سکتے ہیں۔
ریاست اگر عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو یہ محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری سے غفلت بھی سمجھی جاتی ہے۔
کیونکہ حکمرانی صرف اختیار کا نام نہیں بلکہ خدمت، انصاف اور جوابدہی کا تقاضا بھی کرتی ہے۔
ماہِ صیام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اقتدار عارضی ہے مگر عوامی دعائیں اور بددعائیں دیرپا اثر رکھتی ہیں۔
اگر حکمران طبقہ اخلاص، دیانت اور عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مشکلات کم کرے تو یہی مہینہ رحمت اور آسانیوں کا ذریعہ بن سکتا ہے
بصورت دیگر معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی ریاستی استحکام کے لیے مستقل خطرہ بنی رہتی ہے۔

