ہنگامی معاشی پالیسی، پٹرول بحران اور قومی استحکام پر جامع تجزیاتی کالم
تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
ملک اس وقت شدید معاشی دباؤ، مہنگائی کے طوفان اور توانائی بحران کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ غیر معمولی اضافہ صرف ایک مالیاتی فیصلہ نہیں بلکہ یہ قومی اقتصادی منصوبہ بندی، ریاستی ترجیحات اور عوامی ریلیف پالیسیوں کا امتحان بن چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ملک میں تقریباً اٹھائیس دن کا تیل ذخیرہ موجود ہے، مگر اس کے باوجود قیمتوں میں اچانک اور بھاری اضافہ عوامی حلقوں میں بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔
حکومتی مؤقف یہ پیش کیا جاتا ہے کہ خطے میں کشیدگی، بالخصوص آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران سے جڑی جغرافیائی سیاسی بے یقینی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔بلاشبہ عالمی حالات اثر انداز ہوتے ہیں،
مگر دانشمندانہ معاشی حکمت عملی یہ تقاضا کرتی ہے کہ دستیاب قومی ذخائر کو بروئے کار لا کر وقتی جھٹکوں سے عوام اور صنعت کو محفوظ رکھا جائے۔
توانائی کسی بھی ملک کی معاشی شہ رگ ہوتی ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی ہر شے متاثر ہوتی ہے۔ یوں ایک فیصلہ پورے معاشی ڈھانچے میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا کر دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پٹرول کی موجودہ قیمت میں اصل خام تیل کی لاگت سے زیادہ حصہ ٹیکسز، لیویز اور حکومتی محصولات کا شامل ہے، جس سے عام آدمی پر بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
علاقائی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو بھارت نے عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود فوری طور پر قیمتوں میں بڑا اضافہ کرنے کے بجائے داخلی معاشی توازن کو ترجیح دی۔اس کے برعکس پاکستان میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ عوامی بے چینی اور مہنگائی کے طوفان کو مزید شدت دیتا ہے۔
یہ فرق معاشی منصوبہ بندی اور ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔
ماضی میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، مگر عوام کو براہ راست جھٹکا دینے کے بجائے سبسڈی فراہم کی گئی۔ اسی طرح اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں نمایاں اضافے کی سفارشات کے باوجود حکومت نے مکمل بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا۔ اس حکمت عملی کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو محدود رکھنا تھا۔
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہنگامی معاشی منصوبہ بندی کو محض بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔سب سے اہم پہلو اسٹریٹجک ذخائر کا مؤثر استعمال ہے۔ اگر ملک کے پاس تیل کا محفوظ ذخیرہ موجود ہے
تو اسے عالمی منڈی کے وقتی دباؤ کو متوازن کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
دوسرا اہم اقدام ٹیکس اصلاحات ہیں۔ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ توانائی مہنگی ہونے سے مہنگائی کا طوفان پورے معاشی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
تیسرا بڑا مسئلہ ذخیرہ اندوزی ہے۔ مصنوعی قلت پیدا کر کے منافع خور عناصر مارکیٹ میں افراتفری پیدا کرتے ہیںجس سے قیمتیں مزید بڑھتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کرے۔
چوتھا اہم پہلو اسمگلنگ ہے۔ سرحدی علاقوں میں غیر قانونی تیل کی اسمگلنگ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
یہ غیر قانونی کاروبار نہ صرف ملکی ریونیو کم کرتا ہے بلکہ قانونی مارکیٹ کو بھی غیر مستحکم بناتا ہے۔ مؤثر سرحدی نگرانی اور سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔
پانچواں بنیادی اقدام شفاف قیمتوں کے تعین کا نظام ہے۔ جب تک حکومت قیمتوں کا واضح فارمولا عوام کے سامنے نہیں لائے گی، بے اعتمادی اور افواہوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔
اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو موجودہ پالیسیوں کے تحت پٹرول کی قیمتیں ناقابلِ برداشت سطح تک جا سکتی ہیں،جس کے نتیجے میں مہنگائی، بیروزگاری اور صنعتی جمود میں مزید اضافہ ہوگا۔
ایسے حالات میں وقتی ریونیو اکٹھا کرنا دانشمندی نہیں بلکہ طویل المدتی معاشی استحکام کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
توانائی پالیسی میں توازن، ذخائر کا دانشمندانہ استعمال، ٹیکس اصلاحات، ذخیرہ اندوزی کے خاتمے اور اسمگلنگ کی روک تھام کے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں۔
ریاست کی اصل ذمہ داری عوام کو معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ معاشی استحکام ہی قومی استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔
پاکستان کو اس وقت سیاسی نعروں سے زیادہ سنجیدہ معاشی منصوبہ بندی، انتظامی شفافیت اور قومی مفاد پر مبنی فیصلوں کی ضرورت ہے۔بصورت دیگر مہنگائی کا یہ طوفان نہ صرف عوامی زندگی کو مفلوج کر دے گا
بلکہ معاشی خودمختاری بھی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

