✍️ تحریر و تحقیق
ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
زاویۂ نظر
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں بار بار یہ احساس دلاتی ہے کہ جب طاقت اور انصاف کے درمیان توازن بگڑ جائے تو جنگیں جنم لیتی ہیں اور انسانیت لہو لہان ہو جاتی ہے۔ حالیہ کشیدگی میں Iran اور Israel کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ کیا انسانی حقوق صرف طاقتوروں کے لیے ہیں یا یہ اصول پوری انسانیت کے لیے یکساں ہونے چاہئیں؟
جب میزائل Tel Aviv کے آسمان پر گرجتے ہیں تو عالمی میڈیا میں انسانی حقوق کی بحث اچانک شدت اختیار کر لیتی ہے، مگر یہی دنیا اس وقت خاموش دکھائی دیتی ہے جب بم اور گولہ باری Gaza Strip کے معصوم شہریوں پر برستی ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو عالمی ضمیر کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگ جب بھی شروع ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔ نہ میزائل مذہب دیکھتے ہیں اور نہ بارود قومیت پہچانتا ہے۔ ملبے تلے دبنے والے بچے کا تعلق کسی بھی سرزمین سے ہو، اس کی چیخ ایک جیسی ہوتی ہے اور ایک ماں کا درد پوری انسانیت کا درد بن جاتا ہے۔
بین الاقوامی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ انصاف اکثر طاقت کے تابع ہو جاتا ہے۔ عالمی ادارے، قراردادیں اور انسانی حقوق کے منشور موجود ہونے کے باوجود دنیا آج بھی اس بنیادی اصول پر متفق نہیں ہو سکی کہ ہر انسان کی جان کی حرمت برابر ہے۔ اگر عالمی برادری واقعی امن چاہتی ہے تو United Nations جیسے اداروں کو محض علامتی فورم کے بجائے حقیقی انصاف کا ضامن بننا ہوگا۔
اسلامی تعلیمات اور عالمی اخلاقیات دونوں ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ انسان کی جان سب سے قیمتی ہے۔ قرآن کا واضح اصول ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ یہی اصول دراصل عالمی امن کی بنیاد بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے سیاست اور مفادات سے بالاتر ہو کر تسلیم کیا جائے۔
آج مشرقِ وسطیٰ جس کشیدگی سے گزر رہا ہے وہ صرف دو ریاستوں کا تصادم نہیں بلکہ ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی بحران کا حصہ ہے۔ اگر طاقت کے استعمال کا یہی سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات صرف Iran اور Israel تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اور عالمی امن بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگ کے میدان میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا۔ شہر کھنڈر بن جاتے ہیں، معیشتیں تباہ ہو جاتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بو دیے جاتے ہیں۔ اس لیے اصل فتح وہ ہے جو جنگ کے بغیر حاصل ہو اور اصل طاقت وہ ہے جو انسانیت کو بچا لے۔
دنیا کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ طاقت کے قانون کو جاری رکھنا چاہتی ہے یا انصاف کے قانون کو۔ اگر انصاف کو ترجیح نہ دی گئی تو زمین کے مختلف خطے ایک کے بعد دوسرے بحران کا شکار ہوتے رہیں گے۔
تاریخ کا سبق نہایت واضح ہے:
جب انصاف کمزور ہو جائے تو جنگیں جنم لیتی ہیں، اور جب انصاف دوہرا ہو جائے تو جنگیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔لہٰذا انسانیت کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ نفرت کی سیاست کو ختم کر کے مکالمے، انصاف اور مساوات کو فروغ دیا جائے۔ کیونکہ سرحدیں جنگ سے بدل سکتی ہیں، مگر دنیا کو زندہ رکھنے والی اصل قوت صرف انسانیت، انصاف اور رحم ہے۔

