شیخوپورہ میں کمسن رکشہ ڈرائیور جاں بحق، خاموش تماشائی
لاہور نیوز ڈیسک سی سی سی این آئیملک جہانگیر قادر کے مطابق
لاہور: صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ دس سالہ رکشہ ڈرائیور بچے کی پولیس گاڑی سے ٹکر اور مبینہ تشدد کے نتیجے میں ہلاکت نے شہریوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق کمسن بچہ روزگار کے سلسلے میں رکشہ چلا رہا تھا
کہ اچانک پولیس موبائل سے تصادم پیش آیا۔
مقامی افراد کا الزام ہے کہ حادثے کے بعد اہلکاروں نے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا
جس سے اس کی حالت تشویشناک ہو گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکا۔
واقعے کے بعد شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں سے مشقت پہلے ہی ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے مگر متعلقہ ادارے اس جانب توجہ دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے قائم ادارہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب اس واقعے پر تاحال مؤثر کردار ادا کرتا نظر نہیں آ رہا،
جس پر سماجی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے
کہ اگر سڑکوں پر محنت کرنے والے بچوں کی بروقت نگرانی اور بحالی کی جاتی تو یہ سانحہ شاید پیش نہ آتا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور حقائق سامنے آنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ سانحہ کئی اہم سوالات چھوڑ گیا ہے
کیا کمسن بچوں سے مشقت رکوانے کے قوانین پر عمل ہو رہا ہے؟
کیا حفاظتی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟
اور کیا غریب خاندانوں کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہے؟
یہ واقعہ حکومتی کارکردگی اور سماجی تحفظ کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
رپورٹ: ملک جہانگیر قادر لاہور نیوز ڈیسک سی سی این آئی
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔
NEWS CENTERS PK
The Supreme Command of Truth Journalism

