Friday, April 10, 2026
No menu items!
HomeColumnistپاکستان میں مہنگائی کا طوفان ، حکمرانوں کی شاہی عیاشیاں اور اقبال...

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان ، حکمرانوں کی شاہی عیاشیاں اور اقبال کے خواب قائداعظم کی فلاحی ریاست کی پامالی


یہ وہی ارضِ مقدس ہے جسے ایک ایسی فلاحی خوددار منصفانہ ریاست بنانے کا خواب دیکھا گیا تھا جہاں قانون سب کے لئے برابر ہو اور عوام کی فلاح اولین ترجیح ہو۔

مگر آج کا پاکستان اس خواب کی شکستہ تعبیر بن چکا ہے

جہاں عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے کراہ رہے ہیں

اور حکمران اشرافیہ شاہانہ طرزِ زندگی میں مصروف ہے۔

قابلیت اور کردار جو کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں، آج ہمارے نظام میں بے وقعت ہو چکے ہیں۔ سفارش ، اقربا پروری اور مفادات کی سیاست نے میرٹ کو دفن کر دیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قابلیت کسی کی انگلی اٹھانے یا تعریف کی محتاج نہیں ہوتی

بلکہ اپنے اندر کی سچائی اور محنت سے جنم لیتی ہے۔

مگر جب نظام ہی انصاف سے خالی ہو جائے تو اہل لوگ پس منظر میں چلے جاتے ہیں

اور نااہل فیصلے کرنے لگتے ہیں۔

ادھر عوام کی حالت یہ ہے کہ مہنگائی نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس اور ایندھن ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔

تنخواہ دار طبقہ پس کر رہ گیا ہے، مزدور کا چولہا ٹھنڈا ہو رہا ہے اور سفید پوش طبقہ خاموش اذیت میں مبتلا ہے۔

ماں باپ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں

یہ منظر کسی بھی مہذب ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

دوسری طرف حکمرانوں کی دنیا الگ ہے۔ پروٹوکول کے قافلے، سرکاری خزانے سے چلنے والی لگژری گاڑیاں، بیرونِ ملک شاہانہ دورے اور غیر ضروری اخراجات

یہ سب کچھ اس وقت جاری ہے جب عوام فاقوں پر مجبور ہیں۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف ظلم ہے بلکہ ریاستی اخلاقیات پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔

کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟

اقتدار اگر خدمت کے بجائے مراعات کا ذریعہ بن جائے تو وہ نظام دیرپا نہیں رہتا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران عوام سے کٹ جائیں تو تخت ہل جاتے ہیں۔

آج بھی وقت ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں،

شاہی عیاشیوں کو محدود کریں،

اخراجات میں کفایت شعاری اپنائیں اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کریں۔

بصورت دیگر عوامی غصہ ایک ایسے طوفان میں بدل سکتا ہے جسے روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

ہمیں بحیثیت قوم بھی خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

اگر ہم واقعی اس ملک کو سنوارنا چاہتے ہیں

تو ہمیں سچائی، دیانت اور میرٹ کو اپنانا ہوگا۔

قائداعظم کے اصول—ایمان، اتحاد اور تنظیم—کو محض نعروں سے نکال کر عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

نتیجہ
پاکستان کی بقا اور ترقی کا راز نہ کسی بیرونی طاقت میں ہے اور نہ ہی وقتی پالیسیوں میں، بلکہ ایک مضبوط کردار، دیانتدار قیادت اور عوامی فلاح پر مبنی نظام میں ہے۔

اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ ہمیں ایک ناکام قوم کے طور پر یاد رکھے گی،

لیکن اگر ہم سنبھل گئے تو یہی پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ —

کالم نگار (زاویۂ نظر)

پاکستان زندہ باد — پائندہ باد رہے گا، ان شاءاللہ عزوجل

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments