اداریہ
چالیس ہزار ارب کا قرضہ
آخر کہاں استعمال ہوا، کون جواب دے گا؟
پاکستان کی سیاسی اور معاشی تاریخ کے اس نازک موڑ پر قوم کے ذہن میں ایک بنیادی سوال شدت سے ابھر رہا ہے
گزشتہ چند برسوں کے دوران حاصل کیے گئے تقریباً چالیس ہزار ارب روپے کے اضافی قرضے آخر کہاں خرچ ہوئے؟
یہ سوال محض سیاسی مخالفت یا حکومتی حمایت کا نہیں بلکہ قومی امانت، عوامی اعتماد اور ریاستی جوابدہی کا معاملہ ہے۔
وزارتِ خزانہ کی سالانہ قرضہ جائزہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کا مجموعی عوامی قرضہ مسلسل بڑھتے ہوئے تاریخی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں
کہ قرضوں کے حجم میں کھربوں روپے کا اضافہ ہوا جبکہ دوسری جانب عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کی بڑھتی قیمتوں، نئے ٹیکسوں اور معاشی بے یقینی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایسے میں عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ اگر اتنی بڑی مالی رقوم قرض کی صورت میں حاصل کی گئیں تو ان کے بدلے قوم کو کیا ملا؟
قرض لینا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ ریاستیں بھی معاشی ترقی، انفراسٹرکچر، صنعتی توسیع، تعلیم، صحت اور جدید ٹیکنالوجی کے منصوبوں کے لیے قرض حاصل کرتی ہیں۔
لیکن ہر قرض کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے کہ اس کے استعمال اور نتائج کے بارے میں عوام کو مکمل آگاہ کیا جائے۔
اگر قرضے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوئے تو ان کے ثمرات کہاں ہیں؟
اگر صنعت کے فروغ کے لیے استعمال ہوئے تو روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ کیوں نظر نہیں آتا؟
اگر توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری ہوئی تو گردشی قرضہ اور مہنگی بجلی کا بحران کیوں برقرار ہے؟
مالیاتی ماہرین بارہا اس حقیقت کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے وفاقی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیم، صحت، تحقیق، زراعت اور سماجی بہبود جیسے شعبے مطلوبہ وسائل سے محروم رہتے ہیں۔
اگر آج قومی آمدنی کا بڑا حصہ صرف قرضوں کی خدمت میں صرف ہو رہا ہے
تو اس صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارروائیاں، پارلیمانی نگرانی اور مختلف مالیاتی جائزے اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں
کہ قومی خزانے سے خرچ ہونے والے ہر روپے کا حساب لیا جائے۔
مگر قوم اب محض اعداد و شمار نہیں بلکہ واضح نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔
عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کے مستقبل پر ڈالے گئے قرضوں کے بوجھ کے بدلے ملک کو کون سی پائیدار معاشی بنیادیں حاصل ہوئیں۔
اہم بات یہ ہے کہ احتساب کا عمل کسی ایک حکومت، جماعت یا شخصیت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
قومی خزانہ کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔
لہٰذا جس دور میں بھی قرض لیے گئے، جس حکومت نے بھی وسائل استعمال کیے، اس کے مالی فیصلوں اور اخراجات کا آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ آڈٹ ہونا چاہیے۔
یہی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور آئینی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں احتساب اکثر سیاسی وابستگیوں کی نذر ہو جاتا ہے،
جبکہ حقیقی احتساب وہ ہے جو بلاامتیاز اور بلاخوف ہو۔ قوم کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ قرضہ کیوں لیا گیا، کہاں خرچ ہوا، کس نے فیصلہ کیا، اس سے کیا فوائد حاصل ہوئے اور اگر کہیں بدعنوانی، نااہلی یا وسائل کے ضیاع کے شواہد موجود ہیں تو ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
آج پاکستان کو محض قرضوں کی نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔ یہ اعتماد صرف شفافیت، دیانت داری اور جوابدہی سے بحال ہو سکتا ہے۔
ریاستی اداروں، پارلیمنٹ، مالیاتی نگران اداروں اور حکومت وقت پر لازم ہے کہ وہ قوم کے سامنے مکمل مالی حقائق رکھیں۔ کیونکہ خاموشی شکوک کو جنم دیتی ہے جبکہ شفافیت اعتماد پیدا کرتی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ قرضوں، سودی بوجھ، مالی نظم و نسق اور قومی وسائل کے استعمال پر کھلی قومی بحث ہو۔عوام محض قرضوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے وسائل کا حساب جاننے کے بھی حق دار ہیں۔
جمہوریت میں اصل مالک عوام ہوتے ہیں اور مالک کو اپنی امانت کا حساب ضرور ملنا چاہیے۔
قوم آج بھی یہی سوال کر رہی ہے: چالیس ہزار ارب کا قرضہ آخر کہاں استعمال ہوا؟اور اگر اس کا جواب موجود ہے تو اسے قوم کے سامنے لانے میں تاخیر کیوں؟
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
NEWS CENTERS PAKISTAN
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لئے۔
NEWS CENTERS PK
The Supreme Command of Truth Journalism.
