تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہعنوان سرراہ
ساڑھے آٹھ ہزار ماہانہ آمدنی پر غربت کی تعریف زمینی حقائق سے مطابقت رکھتی ہے۔۔؟؟؟
بڑھتی مہنگائی، محدود روزگار اور کمزور قوتِ خرید نے متوسط طبقے کو بھی متاثر کر دیا
جب کسی ملک میں غربت کے پیمانے اور عوامی زندگی کے حقائق میں واضح فرق پیدا ہو جائےتو معاشی اعداد و شمار اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔
سابق وزیرِ خزانہ و وزیرِ خارجہ مفتاح اسماعیل کا یہ بیان کہ حکومت کے نزدیک ماہانہ ساڑھے آٹھ ہزار روپے
کمانے والا شخص غریب نہیں
ایک ایسے سوال کو جنم دیتا ہے
جو آج ہر پاکستانی کے ذہن میں موجود ہے
کیا واقعی اتنی آمدنی میں ایک انسان باعزت زندگی گزار سکتا ہے۔۔؟
سرِ راہ یہ سوال محض معاشی نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی انصاف اور حکومتی ترجیحات سے بھی جڑا ہوا ہے۔آج مہنگائی کے اس دور میں جہاں آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس، تعلیم اور علاج کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں
آٹھ ، دس ہزار سے گزارہ مضحکہ خیز ہے
ایک خاندان کے لئے چند ہزار روپے میں بنیادی ضروریات پوری کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے
اگر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھی ملک کی 29 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہےتو یہ صورتحال کسی بھی ذمہ دار ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ غربت صرف آمدنی کی کمی کا نام نہیں
بلکہ مواقع، تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل تک محدود رسائی کا دوسرا نام بھی ہے
پاکستان کو ایسے معاشی فیصلوں کی ضرورت ہےجو صرف رپورٹوں میں نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری لائیں۔
جب تک عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور مہنگائی پر مؤثر کنٹرول نہیں ہوگا،
غربت کے اعداد و شمار بدلنے سے زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی
سرِ راہ یہی حقیقت سب سے بڑا سوال بن کر کھڑی ہےآخر کار معاشی ترقی کے دعوے کب عام شہری کی زندگی میں آسانی اور خوشحالی کی صورت اختیار کریں گے۔۔؟
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لئے
NEWS CENTERS PKThe Supreme Command of Truth Journalism.
POVERTY LINE DEBATE EXPOSES ECONOMIC REALITIES FACING MILLIONS OF STRUGGLING PAKISTANI FAMILIES TODAY
RELATED ARTICLES
