Friday, July 10, 2026
No menu items!
HomeColumnistانوسٹی گیٹو و مطالعاتی جائزہ بلوچستان : ایران سے تجارت کا مستقبل،...

انوسٹی گیٹو و مطالعاتی جائزہ بلوچستان : ایران سے تجارت کا مستقبل، قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری کا امتحان


تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
پاکستان اس وقت ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے

جہاں ہر نئی تجارتی راہداری قومی معیشت کے لیے امید کی کرن بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔

انہی امکانات میں ایران کے ساتھ زمینی تجارت کا راستہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تقریباً 900 کلومیٹر طویل پاک۔ایران سرحد محض دو ممالک کو نہیں ملاتی

بلکہ یہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور علاقائی منڈیوں سے جوڑنے کی قدرتی شاہراہ بھی بن سکتی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے محفوظ اور پائیدار تجارتی راہداری ثابت ہوگا، یا بدامنی اس قومی موقع کو بھی نگل لے گی؟


بلوچستان پاکستان کی جغرافیائی، دفاعی اور معاشی حکمتِ عملی کا مرکز ہے۔

یہی سرزمین معدنی وسائل، ساحلی پٹی، سرحدی تجارت اور علاقائی رابطوں کی بنیاد ہے۔

اگر یہاں امن، سیاسی استحکام اور مؤثر طرزِ حکمرانی قائم ہو جائے تو پاکستان نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔

لیکن اگر امن و امان کی صورتحال غیر یقینی رہے تو سب سے پہلے سرمایہ کار، صنعت کار، ٹرانسپورٹ کمپنیاں اور سرحدی تجارت متاثر ہوں گی

جس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔


ایران پاکستان کو توانائی، تیل، گیس، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور دیگر خام مال نسبتاً کم لاگت پر فراہم کر سکتا ہے۔ اس سے صنعتی پیداوار میں اضافہ، بجلی کی لاگت میں کمی، روزگار کے نئے مواقع اور برآمدات میں بہتری کی امید پیدا ہوتی ہے۔

اسی طرح بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں قانونی تجارت بڑھنے سے مقامی آبادی کے لئے روزگار، کاروبار اور ریاست کے لئے ریونیو میں اضافہ ممکن ہے۔


لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی کم اہم نہیں۔ بلوچستان میں وقفے وقفے سے پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات، شاہراہوں کی سکیورٹی، سرحدی گزرگاہوں پر خطرات اور سرمایہ کاروں کا عدم اعتماد ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی بڑے معاشی منصوبے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اگر تجارتی قافلے خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گے تو تجارت کی لاگت بڑھے گی، انشورنس مہنگی ہوگی اور علاقائی تجارت متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دے گی۔


انوسٹی گیٹو نقطۂ نظر سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں بدامنی سے فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟

کیا یہ صرف داخلی انتظامی کمزوری ہے

یا اس کے پس منظر میں علاقائی مسابقت، جغرافیائی سیاست اور مختلف طاقتوں کے معاشی مفادات بھی اثرانداز ہوتے ہیں؟

ایسے سوالات کے حتمی جواب صرف مستند تحقیقات، شفاف ریاستی اداروں اور قابلِ تصدیق شواہد ہی فراہم کر سکتے ہیں۔ قیاس آرائی یا غیر مصدقہ الزامات قومی مفاد کے بجائے مزید ابہام پیدا کرتے ہیں۔


اسی طرح ایران کے ساتھ تجارت کے راستے میں بین الاقوامی پابندیوں، مالیاتی نظام، بینکاری، انشورنس اور سفارتی توازن جیسے عوامل بھی اہم ہیں۔

پاکستان کو اپنی معاشی ضرورتوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے درمیان ایسا متوازن راستہ اختیار کرنا ہوگا

جو قومی مفاد، علاقائی تعاون اور عالمی قوانین تینوں کا احترام کرے۔


اس پورے منظرنامے میں ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان کے عوام اس خطے کی اصل طاقت ہیں۔

اگر ترقیاتی منصوبوں، روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور وسائل میں مقامی آبادی کو حقیقی شراکت نہ دی گئی

تو صرف سڑکیں، بندرگاہیں اور سرحدی چوکیاں دیرپا امن اور خوشحالی کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔

پائیدار امن ہمیشہ انصاف، شفاف حکمرانی اور عوامی اعتماد سے جنم لیتا ہے۔


پاکستان کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ایران کے ساتھ قانونی تجارت کو فروغ دے، سرحدی انفراسٹرکچر کو جدید بنائے، کسٹمز اور تجارتی نظام کو شفاف کرے،

بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرے اور مقامی آبادی کو اس معاشی تبدیلی کا حقیقی شریک بنائے۔

یہی حکمتِ عملی بلوچستان کو تنازعات کی سرزمین کے بجائے ترقی اور خوشحالی کی علامت بنا سکتی ہے۔


بلوچستان کا مستقبل دراصل پاکستان کی معاشی خودمختاری، علاقائی تجارت اور قومی سلامتی کا مستقبل ہے۔ اگر یہ خطہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال ہوگا تو ایران کے راستے تجارت پاکستان کے لیے نئی معاشی راہیں، توانائی کے بہتر مواقع اور علاقائی اثرورسوخ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

لیکن اگر بدامنی، غیر یقینی صورتحال اور پالیسی کا فقدان برقرار رہا

تو یہ جغرافیائی برتری ایک ضائع شدہ موقع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔


سرِ راہ سوال صرف یہ نہیں کہ ایران سے تجارت ہوگی یا نہیں؛

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بلوچستان کو ایسا پُرامن، بااعتماد اور خوشحال خطہ بنا سکیں گے

جہاں سے گزرنے والا ہر تجارتی قافلہ پاکستان کی معاشی آزادی، قومی وحدت اور روشن مستقبل کی نوید بنے؟

PRIME NEWS AGENCY CITY CRIME NEWS INTERNATIONAL CCNI

UNDER THE SUPREME COMMAND

ÑEWS CENTERS PK

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments