عنوان سرِ راہ
تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
کالم نگار
حکومت کا بڑا فیصلہ
پاور سیکٹر ملازمین کی نجی یونینز کی سہولت ختم
یہ محض ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ ایک ایسا موڑ ہے جہاں ریاست اور مزدور کے درمیان اعتماد کی ڈور کو نئی آزمائش کا سامنا ہے۔
بظاہر اس اقدام کو اصلاحات کا نام دیا جا رہا ہے
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی اصلاح ہے یا ایک نیا بحران جنم لینے جا رہا ہے؟
سرِ راہ کھڑا عام آدمی آج بھی بجلی کے بلوں کی چنگاری میں جل رہا ہے۔
پاور سیکٹر، جو کبھی قومی ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا
اب بدانتظامی، قرضوں کے بوجھ اور پالیسیوں کی ناکامی کا استعارہ بن چکا ہے۔
ایسے میں اگر حکومت نجی یونینز کی سہولت ختم کرتی ہے
تو اس کا پہلا اثر انہی کارکنوں پر پڑے گا جو پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یونینز محض تنخواہوں کے لیے نہیں ہوتیں
بلکہ وہ مزدور کے حقوق کی آخری دیوار ہوتی ہیں۔
جب یہ دیوار گرا دی جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملازمین کی آواز کون بنے گا؟
کیا بیوروکریسی جو پہلے ہی طاقت کے ایوانوں میں گم ہے،
اب ان کی نمائندگی کرے گی؟
یا پھر یہ خاموشی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مزدور کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی، اس کے ردعمل میں معاشرتی بے چینی نے جنم لیا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے، وہاں ایسے فیصلے عوامی ردعمل کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اصلاحات کے نام پر ایسے اقدامات نہ کرے جو معاشرتی توازن کو بگاڑ دیں۔
اصل مسئلہ یونینز کا خاتمہ نہیں بلکہ نظام کی خرابی ہے۔ جب تک شفافیت، میرٹ اور احتساب کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، ایسے فیصلے محض وقتی سکون تو دے سکتے ہیں مگر دیرپا استحکام نہیں لا سکتے۔ پاور سیکٹر کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ملازمین کو ساتھ لے کر چلے، نہ کہ انہیں دیوار سے لگا دے۔
سرِ راہ کھڑا یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے: کیا ریاست اپنے ہی کارکنوں سے خوفزدہ ہو چکی ہے؟ یا پھر یہ وہی پرانا کھیل ہے جہاں کمزور کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے؟
اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہےاور اس کا خمیازہ نہ صرف مزدور بلکہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔
کیونکہ تاریخ کا سبق واضح ہے
جب انصاف کا ترازو جھک جائے تو نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔

