Thursday, April 23, 2026
No menu items!
HomeColumnistریاستی خزانہ یا شاہی اخراجات؟

ریاستی خزانہ یا شاہی اخراجات؟

✍️

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ

ریاستیں نعروں سے نہیں ، ترجیحات سے پہچانی جاتی ہیں

عنوان سر راہ

الفاظ کا جادو وقتی طور پر دلوں کو گرما سکتا ہے، مگر تاریخ ہمیشہ عمل کا حساب مانگتی ہے۔

پاکستان بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف قربانی، سادگی اور قومی مفاد کا بیانیہ ہے

اور دوسری طرف ریاستی اخراجات کی وہ حقیقت ہے

جو سوال بن کر سامنے آ رہی

ہے۔
جب شہباز شریف قوم سے مخاطب ہو کر معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں اور عالمی دباؤ کی بات کرتے ہیں

تو یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں کہ ملک ایک کڑے مالی امتحان سے گزر رہا ہے۔

International Monetary Fund کے ساتھ ہونے والے معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست کو مالی نظم و ضبط کی سخت ضرورت ہے۔

عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جاتا ہے، سبسڈیز کم کی جاتی ہیں اور ہر شہری سے کہا جاتا ہے کہ وہ ریاست کے لیے اپنا حصہ ڈالے۔


مگر اسی لمحے ایک اور سوال جنم لیتا ہے

کیا یہ قربانی صرف عوام کے لیے ہے؟

کیا ریاستی ایوانوں میں بھی وہی سادگی نظر آتی ہے جس کا درس دیا جاتا ہے؟


سرکاری بجٹ دستاویزات، مالی رپورٹس اور آڈٹ ریکارڈ جب کھولے جاتے ہیں تو ایک خاموش مگر طاقتور کہانی سامنے آتی ہے۔

یہ کہانی بتاتی ہے کہ ریاستی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

خاص طور پر ان شعبوں میں جو براہِ راست عوامی فلاح سے تعلق نہیں رکھتے

اعلیٰ سرکاری دفاتر، پروٹوکول، سیکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے پر خطیر رقوم خرچ کی جاتی ہیں

یہ اخراجات قانونی دائرے میں ضرور ہوتے ہیں، مگر سوال ان

کی ترجیح کا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھنا شروع ہوتا ہے۔


آصف علی زرداری جیسے اعلیٰ عہدوں کے ساتھ سیکیورٹی پروٹوکول کا جواز اپنی جگہ موجود ہے،

اور یوسف رضا گیلانی جیسے عہدیداروں کے لیے سرکاری سہولیات بھی ریاستی نظام کا حصہ ہیں۔

مگر جب یہ سہولیات حد سے بڑھنے لگیں، جب اخراجات کا توازن بگڑنے لگے،

تو پھر یہی نظام سوالات کی زد میں آ جاتا ہے۔


ریاست کے ایوانوں سے باہر ایک اور پاکستان بھی ہے

وہ پاکستان جہاں ایک مزدور اپنے بچوں کی فیس کے لیے پریشان ہے،

جہاں ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے

جہاں ایک ماں مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے گھر کا بجٹ سنبھالنے میں ناکام نظر آتی ہے

ان حالات کی عکاسی Pakistan Bureau of Statistics کے اعداد و شمار بھی کرتے ہیں

جو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔


یہی وہ تضاد ہے جو سب سے زیادہ خطرناک ہے—

الفاظ اور عمل کا تضاد، وعدو اور حقیقت کا تضاد۔


ریاست اگر عوام سے قربانی مانگتی ہے

تو اسے خود بھی مثال قائم کرنا ہوگی۔

سادگی کا درس صرف تقاریر تک محدود نہیں رہنا چاہیے

بلکہ اسے حکومتی طرزِ عمل میں نظر آنا چاہیے۔

شفافیت صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک نظام ہونا چاہیں

جہاں ہر خرچ کا حساب عوام کے سامنے ہو اور ہر فیصلہ جوابدہی کے دائرے میں آئے۔


یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، اصلاح کا ہے۔

پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانا ہوگا

غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہوگا

اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا نظام قائم کرنا ہوگا

جہاں ریاستی وسائل کو امانت سمجھا جائے، حق نہیں۔


کیونکہ ریاست کا اصل حسن اس کی طاقت میں نہیں

بلکہ اس کے انصاف میں ہوتا ہے۔

اور جب انصاف نظر آنے لگے

تو قربانی بھی بوجھ نہیں بلکہ فخر بن جاتی ہے۔


یہی وہ سبق ہے جو ہمیں سمجھنا ہوگا

ورنہ تاریخ اپنے فیصلے خود سناتی ہے

اور وہ فیصلے کبھی خاموش نہیں ہوتے۔


PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)


ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔


NEWS CENTERS PK

The Supreme Command of Truth Journalism.

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments