کل نفس ذائقۃ الموت طاقت، مزاحمت اور انسانیت کا اصل امتحان
تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
کالم نگار
ناظرین، دنیا کی تاریخ اس اٹل حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت، اقتدار اور عسکری برتری ہمیشہ عارضی ثابت ہوئے ہیں۔انسان خواہ ایٹمی صلاحیت کا حامل ہو یا وسائل سے محروم، انجام سب کا ایک ہے۔
قرآنِ حکیم کا ابدی اعلان “کل نفس ذائقۃ الموت” ہمیں یہی یاد دہانی کراتا ہے
کہ زندگی کی تمام تر کشمکش، سیاسی مفادات اور عالمی طاقتوں کی چالیں بالآخر موت کے دروازے پر آ کر رک جاتی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون مرے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون باوقار طریقے سے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ جب طاقت انصاف سے خالی ہو جائے تو وہ جبر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔بڑی طاقتیں اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے کمزور اقوام پر دباؤ ڈالتی ہیں،
پابندیاں عائد کرتی ہیں اور انسانی حقوق کو نظر انداز کرتی ہیں۔
مگر وقت کا دھارا ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔
اقتدار کے ایوان ویران ہو جاتے ہیں اور ظلم کی علامت بننے والے کردار تاریخ کے صفحات میں عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔
دوسری جانب وہ اقوام اور افراد جو بظاہر کمزور ہوتے ہیں مگر اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے، وہی اصل میں تاریخ کا دھارا موڑتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ موت اٹل ہے مگر ذلت کے ساتھ جینا ایک دائمی شکست ہے۔ یہی استقامت اور مزاحمت زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خاموشی بعض اوقات ظلم کی تقویت بن جاتی ہے۔جب معاشرے ناانصافی پر آواز بلند کرنا چھوڑ دیں تو باطل قوتیں مزید مضبوط ہو جاتی ہیں۔
اس کے برعکس حق گوئی، مزاحمت اور اصول پسندی معاشروں میں نئی روح پھونک دیتی ہے۔
انسانی عظمت کا معیار دولت یا طاقت نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی ہے۔مشکل ترین حالات میں سچ کا ساتھ دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ وقتی مفادات کے لیے سر جھکانے والے ہمیشہ گمنامی میں کھو جاتے ہیں
جبکہ حق کے لیے ڈٹ جانے والے امر ہو جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انسانی وقار، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ قربانیاں تاریخ کے سینے پر روشن باب بن کر ثبت ہو جاتی ہیں۔
قارئین ، موت سب کو آنی ہے مگر عزت اور ذلت کے انجام میں واضح فرق موجود ہے۔باوقار زندگی اور اصولی مؤقف ہی انسان کو تاریخ میں زندہ رکھتا ہے۔

