تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
ایران–اسرائیل کشیدگی شدت اختیار کر گئی آبنائے ہرمز کھلا مگر پاکستان سمیت دنیا بھر میں پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ناگزیر
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے عالمی سیاست اور معیشت کو ایک نئے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ نے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے،
جبکہ عالمی طاقتیں بھی اس تنازعے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ سمندری گزرگاہ بدستور کھلی ہے، تاہم جنگی خطرات کے باعث توانائی کی عالمی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔
آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی شہ رگ کہا جاتا ہے
کیونکہ خلیجی ممالک سے خام تیل اور ایل این جی کی بڑی مقدار اسی راستے سے دنیا بھر کو فراہم کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم گزرگاہ کے گرد بڑھتے ہوئے عسکری خطرات نے عالمی آئل مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
نتیجتاً خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے اثرات براہِ راست پیٹرولیم مصنوعات پر منتقل ہو رہے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایک تجارتی معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات ہر شعبہ زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تیل درآمد کرنے والے ممالک شدید مالی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
پاکستان بھی ان ممالک میں سرفہرست ہے جو اپنی توانائی ضروریات کے لیے بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی بڑی درآمدات خلیجی خطے سے آتی ہیں،
اس لیے آبنائے ہرمز کی صورتحال ملکی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
تیل مہنگا ہونے سے نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے
بلکہ بجلی کی پیداواری لاگت، ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ اور کے درمیان کشیدگی نے توانائی کی ترسیل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے
جس کے باعث ایشیائی اور یورپی معیشتوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ توانائی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کا بحران سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا،
مگر جنگی ماحول میں بحری انشورنس اخراجات، سیکیورٹی خدشات اور ترسیلی خطرات بڑھ جاتے ہیں،
جس کے باعث تیل کی فی بیرل قیمت خود بخود اوپر چلی جاتی ہے۔
یہی اضافی لاگت بالآخر عوام کو مہنگے ایندھن کی صورت برداشت کرنا پڑتی ہے۔
معاشی حلقوں کے مطابق پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا امتحان ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ اور درآمدی بل میں اضافہ حکومت کے لیے کڑے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ متبادل توانائی ذرائع، علاقائی تجارتی روابط اور طویل المدتی پالیسی سازی ہی ایسے بحرانوں کا مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی وقتی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی صف بندی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو دنیا کو توانائی بحران، مہنگائی کے طوفان اور معاشی سست روی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عالمی حالات واضح کر رہے ہیں کہ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات براہِ راست عوامی زندگی، معیشت اور روزمرہ ضروریات تک پہنچتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کھلا ہونے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک ناگزیر معاشی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔NEWS CENTERS PK
The Supreme Command of Truth Journalism.

