Friday, April 24, 2026
No menu items!
HomeColumnistآج دنیا کے نقشے پر ایک خاموش تماشا جاری ہے۔ اسے “پابندیاں”...

آج دنیا کے نقشے پر ایک خاموش تماشا جاری ہے۔ اسے “پابندیاں” کہا جاتا ہے

عنوان: سرِ راہ

پابندیوں کی زنجیر میں جکڑی خاموش چیخ
تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ

سرِ راہ
یہ محض ایک مقام نہیں، ایک راز ہے—ایسا راز جہاں سچ کھڑا تو ہوتا ہے

مگر بول نہیں پاتا

جہاں ہجوم گزرتا ہے مگر حقیقت تنہا رہ جاتی ہے۔

یہی وہ سرِ راہ ہے جہاں سوال جنم لیتے ہیں

مگر جواب خوف کی دبیز تہوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔


آج دنیا کے نقشے پر ایک خاموش تماشا جاری ہے۔

اسے “پابندیاں” کہا جاتا ہے، مگر سرِ راہ کھڑا انسان جانتا ہے کہ یہ محض لفظ نہیں

یہ ایک گھٹن ہے، ایک زنجیر ہے، ایک ایسی غیر مرئی جنگ ہے جو بغیر گولی کے بھی زندگیوں کو چھین رہی ہے۔


سرِ راہ کا منظر عجیب ہے—بندرگاہوں پر تیل کے ڈرم زنجیروں میں جکڑے کھڑے ہیں، جیسے سمندر بھی کسی قید میں ہو۔

بجلی کے کھمبے خاموش ہیں، گیس کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں، اور بازاروں کے دروازے بند ہیں۔

“آٹا بند، بجلی بند، گیس بند، کاروبار بند”

یہ صرف الفاظ نہیں، یہ اس ماں کی بے بسی ہے

جس کے چولہے میں آگ بجھ چکی ہے

یہ اس بچے کی خاموش چیخ ہے جس کے خواب اندھیرے میں گم ہو رہے ہیں۔


پراسراریت یہاں سے شروع ہوتی ہے

سب کچھ سرِ راہ پر ہو رہا ہے، سب دیکھ رہے ہیں

مگر کوئی دیکھ نہیں رہا۔ فیصلے ہو رہے ہیں

مگر انصاف کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ طاقتور ممالک اپنے مفادات کی بساط بچھا کر کمزور قوموں کو مہرہ بنا رہے ہیں

اور سرِ راہ کھڑا عام انسان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر اس کا جرم کیا ہے؟


یہ کیسی دنیا ہے جہاں انسانی حقوق کے دعویدار خود انسانیت کے گلے میں زنجیر ڈال رہے ہیں؟

جہاں پابندیاں حکومتوں کو جھکانے کے لیے لگائی جاتی ہیں مگر ان کا بوجھ عوام کی سانسوں پر آ گرتا ہے؟

سرِ راہ پر کھڑا سچ یہ سب دیکھ رہا ہے، مگر اس کے پاس بولنے کی اجازت نہیں۔


خاموشی کا یہ عالم اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ شور بھی بے معنی لگتا ہے۔

ہر طرف آوازیں ہیں، دعوے ہیں، بیانات ہیں

مگر حقیقت ایک اندھی گلی میں کھو چکی ہے۔

سرِ راہ اب صرف گزرگاہ نہیں رہا، یہ ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔


یاد رکھنا ہوگا

پابندیاں اب صرف سیاسی ہتھیار نہیں رہیں

یہ ایک نئی جنگ ہیں۔

ایسی جنگ جس میں لاشیں خاموشی سے گرتی ہیں

آنکھیں خاموشی سے روتی ہیں، اور تاریخ خاموشی سے لکھی جاتی ہے۔


اگر آج بھی ہم سرِ راہ کھڑے ہو کر خاموش تماشائی بنے رہے

تو کل یہی راستہ ہمارے لیے فیصلہ سنائے گا۔

کیونکہ سرِ راہ وہ مقام ہے

جہاں قومیں اپنا راستہ کھوتی بھی ہیں اور پاتی بھی۔


PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
NEWS CENTERS PAKISTAN


ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔


NEWS CENTERS PK

The Supreme Command of Truth Journalism.

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments