تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
ریاستوں کے خلاف ہونے والی سازشوں کا تذکرہ تاریخ میں ہمیشہ ملتا ہے
لیکن ایک ذمہ دار صحافی، قانون دان اور محقق کا فرض ہے کہ وہ افواہوں اور حقائق میں فرق قائم رکھے۔
قومی سلامتی جیسے حساس معاملات میں جذبات سے زیادہ شواہد، الزامات سے زیادہ تحقیقات اور قیاس آرائیوں سے زیادہ آئینی و قانونی حقائق کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
کشمیر کا تنازع، سرحدی کشیدگیاں، دہشت گردی، معاشی دباؤ، اطلاعاتی جنگ اور علاقائی طاقتوں کے مفادات ایسے عوامل ہیں جو قومی سلامتی کے مباحثے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ بیرونی قوتیں اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں یا نہیں
بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی ریاست اور معاشرہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کس حد تک قانونی آئینی اور ادارہ جاتی طور پر تیار ہیں
پاکستان کا آئین ریاست کی خودمختاری، سالمیت اور قومی وحدت کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 5 کے مطابق ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے
جبکہ آئین ریاستی اداروں کو ملک کی آزادی، خودمختاری اور جغرافیائی وحدت کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی بھی قسم کی علیحدگی پسندی، مسلح بغاوت، دہشت گردی یا ریاستی سالمیت کے خلاف سرگرمیوں کو محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ قانونی اور قومی سلامتی کا مسئلہ تصور کیا جاتا ہے
تحقیقی رپورٹس اور قومی سلامتی کے ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جدید دور میں جنگ کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے۔اب دشمن صرف سرحد پر موجود فوج نہیں ہوتا
بلکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی منظم مہمات، جھوٹی خبریں، نفسیاتی دباؤ، معاشی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں اور ریاستی اداروں کے خلاف عوامی اعتماد کو مجروح کرنے والی سرگرمیاں بھی ہائبرڈ جنگ کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
کشمیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیںبلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، سفارت کاری اور جغرافیائی سیاست کا پیچیدہ معاملہ ہے۔
پاکستان کا سرکاری مؤقف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی ہے۔
دوسری جانب خطے کی مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے مطابق اس تنازع کو دیکھتی ہیں۔
یہی مفادات بعض اوقات سفارتی، سیاسی اور اطلاعاتی محاذوں پر کشیدگی کو جنم دیتے ہیں
ایک اہم قانونی سوال یہ بھی ہے کہ کیا بیرونی مداخلت ہمیشہ براہِ راست ہوتی ہے؟تحقیق بتاتی ہے کہ اکثر اوقات ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے ان کے اندر موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے
بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام، معاشی ناانصافی، ادارہ جاتی تصادم، لسانی تعصبات اور عوامی محرومی وہ دراڑیں ہیں
جن سے بیرونی اثر و رسوخ داخل ہو سکتا ہے
1971ءکا سانحہ بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے
کہ جب سیاسی اختلافات کو قومی بحران بننے دیا جائے
جب عوامی شکایات کا بروقت ازالہ نہ ہو اور جب قومی وحدت کمزور پڑ جائے تو بیرونی عناصر کے لیے مداخلت کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں
تاریخ کا یہ باب صرف ماضی نہیں بلکہ مستقبل کے لیے تنبیہ بھی ہے۔
قانونی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کسی بھی فرد، گروہ یا غیر ملکی ادارے پر سنگین الزامات عائد کرنے کے لیے ناقابلِ تردید شواہد درکار ہوتے ہیںصحافت کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ تحقیق کے بغیر الزام اور ثبوت کے بغیر فیصلہ نہ دیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ذمہ دار صحافت قومی مفاد اور عوامی شعور کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔
نتیجہ: اصل جنگ کہاں ہے؟
اگر کوئی بیرونی طاقت پاکستان کو کمزور کرنے کا خواب دیکھتی بھی ہےتو اس خواب کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار پاکستان کے اندرونی حالات پر ہے۔
ایک مضبوط معیشت، آزاد و ذمہ دار صحافت، مؤثر عدالتی نظام، آئین کی بالادستی، شفاف احتساب اور قومی یکجہتی وہ قلعے ہیں
جنہیں کوئی بیرونی طاقت مسمار نہیں کر سکتی
قومی سلامتی کا سب سے بڑا محافظ صرف سرحد پر کھڑا سپاہی نہیں بلکہ وہ استاد، صحافی، جج، وکیل، سیاست دان اور شہری بھی ہےجو سچ، قانون اور قومی مفاد کے ساتھ کھڑا رہتا ہے
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی رہا ہےکہ دشمن سے زیادہ خطرناک وہ کمزوریاں ہوتی ہیں
جو قوموں کے اندر پیدا ہو جائیں۔
لہٰذا پاکستان کے لئے سب سے بڑا سبق یہی ہے
بیرونی سازشوں سے پہلے داخلی اصلاح اور قومی اتحاد کو ترجیح دی جائے
کیونکہ مضبوط ریاستیں سازشوں سے نہیں
اپنی کمزوریوں سے شکست کھاتی ہیں
PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)
ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لئے
NEWS CENTERS PKThe Supreme Command of Truth Journalism.
