چھ ارب روپے کے باردانے کی مفت فراہمی اور 3500 روپے فی من خریداری کا عندیہ دیا
عنوان سرِ راہ
تحریر ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
(کالم نگار)
پنجاب کی سرزمین ایک بار پھر فیصلوں کی دہلیز پر کھڑی ہے۔کسان جو اس دھرتی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں
آج بھی وعدوں اور اعلانات کے درمیان سچ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
حالیہ اعلان جس میں
Maryam Nawaz
گندم کے کاشتکاروں کے لئے
چھ ارب روپے کے باردانے کی مفت فراہمی اور 3500 روپے فی من خریداری کا عندیہ دیا، بظاہر ایک انقلابی قدم
محسوس ہوتا ہے
مگر سوال وہی پرانا ہے: کیا یہ وعدے زمین پر بھی اتریں گے؟
سرِ راہ کھڑے کسان کی آنکھوں میں آج بھی وہی تھکنوہی انتظار اور وہی خدشات ہیں۔
باردانہ صرف بوری نہیں
یہ اس کی محنت کی حفاظت کا ضامن ہے۔
جب یہی باردانہ بروقت نہ ملے تو فصل کھیت سے منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی نقصان کا شکار ہو جاتی ہے۔
حکومت نے فی ایکڑ 10 بوری دینے کا اعلان تو کر دیا
مگر کیا اس تقسیم میں شفافیت ہوگی؟
کیا بااثر افراد پھر سے اس حق پر قابض نہیں ہوں گے؟
3500روپے فی من کی قیمت یقیناً دل کو بھاتی ہے
مگر کسان کے دل میں ایک اور سوال بھی جنم لیتا ہے
کیا ادائیگیاں واقعی 72 گھنٹوں میں ممکن ہوں گی؟
یا پھر یہ وعدہ بھی ماضی کے کاغذی اعلانات کی طرح فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟
حکومت نے اسٹریٹیجک کمیٹیوں کے قیام کا عندیہ دیا ہے،لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کمیٹیاں نہیں، نیت اور عمل تبدیلی لاتے ہیں۔
اگر نظام وہی پرانا رہا،
تو نام بدلنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔
“Work with Punjab Government”پروگرام بلاشبہ نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ڈگری ہولڈرز تک محدود رہے گا
یا عملی میدان میں کسان کے بیٹے کو بھی برابر کا موقع ملے گا؟
سرِ راہ کھڑا کسان آج بھی یہی سوچتا ہےکہ اس کے مسائل کا حل اعلانات میں نہیں عمل میں پوشیدہ ہے۔
اگر حکومت واقعی زرعی انقلاب چاہتی ہے
تو اسے وقتی ریلیف سے آگے بڑھ کر مستقل پالیسیوں کی بنیاد رکھنا ہوگی۔
یہ وقت ہے کہ فیصلے نعروں سے نکل کر کھیتوں تک پہنچیںورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی
کہ کسان کو صرف امیدیں دی گئیں انصاف نہیں۔
سرِ راہ یہی سچ ہےکہ کسان کا اعتماد بحال کئے بغیر کوئی معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی۔

