!
تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
دنیا ایک بار پھر ہلنے کو ہے… اور اس بار خاموشی کے پردے کے پیچھے جو کھیل کھیلا جا رہا ہے،
اس کے مرکز میں پاکستان کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
سفارتی راہداریوں میں سرگوشیاں تیز ہو چکی ہیں، طاقتور ایوانوں میں فیصلے پک رہے ہیں
اور بظاہر سادہ نظر آنے والے دورے دراصل ایک بڑے عالمی دھماکے کی تمہید بن رہے ہیں۔
ایران میں موجودگی نے صرف ایک خطے کو نہیں، بلکہ پوری عالمی سیاست کو چونکا دیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ دورہ کیوں ہوا—اصل سوال یہ ہے کہ اس کے پیچھے کیا چھپا ہے؟
کیا یہ ایک نئے بلاک کی بنیاد ہے؟
کیا یورپ، ایران کے ساتھ اپنے منجمد تعلقات کو توڑنے جا رہا ہے؟
اور کیا پاکستان اس خفیہ اتحاد کا مرکزی ستون بننے والا ہے؟
یاد رکھیں، عالمی طاقتیں کبھی کھل کر نہیں کھیلتیं…
اصل فیصلے ہمیشہ بند کمروں میں ہوتے ہیں۔
ایران، جو کل تک پابندیوں کا شکار تھا،
آج اچانک سفارتی مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے؟
یورپ، جو ایران سے دوری اختیار کیے بیٹھا تھا
اب نرم کیوں پڑ رہا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر—
پاکستان کیوں اس پورے منظرنامے میں “خاموش مگر کلیدی کردار” ادا کر رہا ہے؟
یہ سب محض اتفاق نہیں
یہ ایک ترتیب ہے، ایک منصوبہ ہے، ایک ایسا جال جو بڑی مہارت سے بُنا جا رہا ہے۔
پاکستان اگر واقعی اس نئے اتحاد کا حصہ بنتا ہے تو یہ خطے کی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔
امریکہ کی اجارہ داری کو چیلنج، یورپ کی نئی سمت، اور مشرق وسطیٰ کی نئی صف بندیاں
یہ سب ایک ہی دھاگے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ مگر خطرہ بھی اتنا ہی بڑا ہے۔
کیا ہم ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے کھیل میں مہرہ بنیں گے؟ یا اس بار کھلاڑی بننے جا رہے ہیں؟
یہی وہ لمحہ ہے جہاں قیادت کا امتحان ہے۔ ایک غلط قدم پاکستان کو تنہائی میں دھکیل سکتا ہے، جبکہ ایک درست فیصلہ اسے عالمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کر سکتا ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے
اصل سوال یہ ہے کہ “کیا ہونے والا ہے؟”
کیونکہ تاریخ گواہ ہے
جب خاموشی گہری ہو جائے، تو طوفان قریب ہوتا ہے

