Friday, July 10, 2026
No menu items!
HomeColumnistپاک چین دوستی ، قومی سلامتی اور نیا ورلڈ آرڈر بدلتی عالمی...

پاک چین دوستی ، قومی سلامتی اور نیا ورلڈ آرڈر بدلتی عالمی سیاست میں پاکستان کے لیے مواقع ، چیلنجز اور قومی حکمتِ عملی

تحریر: ڈاکٹر ملک نفیس بھٹہ
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پرانی عالمی صف بندیاں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔

طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، معاشی مفادات نئی سمت اختیار کر رہے ہیں اور بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کی سیاست پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔

ایسے حالات میں پاک چین دوستی محض دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی، معاشی ترقی اور علاقائی استحکام سے جڑا ایک اہم معاملہ بن چکی ہے۔


چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں معاشی ترقی، صنعتی وسعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حیران کن کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صلاحیت اور علاقائی حیثیت کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا فطری شراکت دار بناتے ہیں۔


سرِ راہ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک نئے ورلڈ آرڈر کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اگر اس سوال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو جواب ہاں میں نظر آتا ہے۔

تاہم یہ نیا عالمی نظام کسی ایک ملک کے اعلان سے وجود میں نہیں آئے گا

بلکہ عالمی معیشت، دفاع، تجارت، توانائی اور سفارت کاری میں آنے والی تدریجی تبدیلیوں کے نتیجے میں تشکیل پائے گا۔

آج امریکہ، چین، روس اور دیگر بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کر رہی ہیں

جبکہ چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک ان تبدیلیوں کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔


پاکستان کے لئے سب سے اہم پہلو قومی سلامتی ہے۔ قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ ایک مضبوط معیشت، مستحکم ادارے، توانائی کا تحفظ، خوراک کی فراہمی، عوامی فلاح اور داخلی استحکام بھی اس کا لازمی حصہ ہیں۔

اگر ملک معاشی طور پر کمزور ہو تو دفاعی طاقت بھی محدود ہو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاک چین اقتصادی تعاون کو پاکستان کی معاشی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔


افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر قومی مسائل پر جذباتی بحث تو کرتے ہیں لیکن قومی ترقی کے لیے درکار سنجیدہ اقدامات پر کم توجہ دیتے ہیں۔

مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور انصاف کے مسائل آج بھی عوام کے بنیادی خدشات ہیں۔

ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کو تحفظ، روزگار اور امید فراہم کرے۔ اگر عوام مایوسی کا شکار ہوں تو بیرونی چیلنجز مزید خطرناک بن جاتے ہیں۔


سرِ راہ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ مستقل مفادات ہوتے ہیں۔

پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کو قومی مفادات کے تابع رکھنا ہوگا۔

چین کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ بھی متوازن اور مثبت روابط قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہی حکمت عملی پاکستان کو بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔


آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اتحاد، سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات اور ادارہ جاتی مضبوطی کو ترجیح دی جائے۔

اگر ہم اندرونی طور پر مضبوط ہوں گے

تو کوئی بھی عالمی تبدیلی ہمارے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع ثابت ہوگی۔

قوموں کی تقدیر صرف بین الاقوامی اتحادوں سے نہیں بلکہ اپنے عزم، محنت، دیانت اور اجتماعی شعور سے بدلتی ہے۔


سرِ راہ یہی پیغام ہے کہ پاک چین دوستی پاکستان کے لیے ایک اہم قومی سرمایہ ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی

جب ہم قومی سلامتی کو عوامی خوشحالی، معاشی استحکام اور قومی یکجہتی سے جوڑ کر دیکھیں۔

نیا ورلڈ آرڈر چاہے جب بھی تشکیل پائے، مضبوط قومیں ہمیشہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتی ہیں، جبکہ کمزور قومیں دوسروں کے فیصلوں کی محتاج بن جاتی ہیں۔


PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)

ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے


NEWS CENTERS PK

The Supreme Command of Truth Journalism.

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments