Friday, April 10, 2026
No menu items!
HomeCrime Newsمال مقدمہ میں سنگین ردوبدل افیون کی جگہ کالا صابن ، تین...

مال مقدمہ میں سنگین ردوبدل افیون کی جگہ کالا صابن ، تین پولیس اہلکار گرفتار


میاں چنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک نہایت شرمناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں منشیات کے مقدمے کے مال مقدمہ میں سنگین خردبرد اور ردوبدل کا انکشاف ہوا ہے۔


تفصیلات کے مطابق تھانہ میاں چنوں صدر کے منشیات مقدمہ نمبر 738/23 میں بطور مال مقدمہ جمع کروائے گئے افیون کے 25 اور چرس کے 15 پیکٹس، جن میں ہر پیکٹ کا وزن 1045 گرام تھا، عدالت میں پیشی کے دوران مشکوک قرار پائے۔ دورانِ سماعت جب عدالت کے حکم پر افیون کا ایک پیکٹ کھولا گیا تو اس میں سے منشیات کی بجائے کالا صابن برآمد ہوا،

جس پر عدالت میں موجود تمام افراد حیران رہ گئے۔
یہ پیکٹس محرر مال خانہ محمد طارق کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میاں چنوں ذوالفقار علی کی عدالت میں پیش کیے گئے تھے۔

کیس کے اہم گواہ سب انسپکٹر رشید احمد نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ پیش کیے گئے پیکٹس اصل نہیں بلکہ تبدیل شدہ ہیں، اور ان پر موجود سیل اور دستخط بھی اس کے نہیں ہیں۔


عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈی پی او خانیوال کو فوری کارروائی کا حکم دیا، جس پر ایس پی انویسٹی گیشن کو انکوائری سونپی گئی۔

انکوائری رپورٹ میں انچارج مال خانہ محمد طارق، نائب محرر سجاد حسین اور نائب محرر محمد سلیم پر اختیارات کے ناجائز استعمال، مال مقدمہ میں خردبرد، سیلیں توڑنے، افیون کی جگہ کالا صابن بھرنے، شہادت ضائع کرنے اور بددیانتی کے الزامات ثابت ہو گئے۔


رپورٹ کی روشنی میں تینوں پولیس اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور انہیں گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف پولیس نظام پر سوالیہ نشان ہے

بلکہ عدالتی شواہد کے تحفظ پر بھی سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے، جس پر فوری اور سخت اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔


PRIME NEWS AGENCY
City Crime News International (CCNI)


ہر خبر کا رُخ سچ کی جانب
جڑے رہیں ملکی و غیر ملکی تجارتی، تجزیاتی، انوسٹی گیٹو اور تازہ ترین خبروں کے لیے۔


NEWS CENTERS PK

The Supreme Command of Truth Journalism.

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments